خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 386
خطبات طاہر جلد۵ 386 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم تقویٰ کی باریک راہیں اختیار کرو اور تقویٰ کے اعلیٰ مضامین سمجھو۔آیا ما مَعْدُودَتِ یہ تو گنتی کے چند دن ہیں اس لئے ان سے بھاگنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں اور وہ چند دن بھی ایسے ہیں جن میں تمہیں خدا تعالیٰ تمہاری تکلیف کے پیش نظر سہولتیں بھی دیتا جاتا ہے اور استثناء بھی مقرر فرماتا جاتا ہے۔اَيَّا مَا مَّعْدُودَت باوجود اس کے کہ گنتی کے چند دن ہیں فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا اَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اَيَّامٍ أُخَرَ ان چند دنوں میں بھی خدا تعالیٰ اتنی سہولت مہیا فرما رہا ہے کہ تم میں سے جو مریض ہو یا سفر پر ہو اس کے لئے ضروری قرار نہیں دیتا کہ اسی مہینے میں روزے رکھے بلکہ بعد ازاں جس وقت سہولت میسر آئے وہ روزے رکھ سکتا وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکین ہاں وہ لوگ جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ان پر ایک مسکین کو روزہ کا فدیہ دینا ضروری ہے۔ہے۔یہ جو آیت ہے یہ دو طرح سے ترجمہ کی جاسکتی ہے اطاق يُطِيقُ کا معنی مثبت میں بھی لیا جا سکتا ہے اور منفی میں بھی لیا جا سکتا ہے۔اس باب میں یہ خاص خوبی ہے اور قرآن کریم نے اس ایک لفظ میں دونوں معنے بیان فرما دیئے ہیں اور جو بعد میں آنے والی آیت ہے وہ اس مضمون کو اور زیادہ کھول دیتی ہے۔وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطِيقُونَ کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لئے فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسکین ندیہ ہے ایک مسکین کا کھانا کھلانا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں یاہ کی ضمیر ا گر فدیہ کی طرف لے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ لوگ جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں ان کے لئے چھوڑے ہوئے روزے کے بدلے ایک مسکین کا کھانا کھلانا بطور فدیہ مقرر ہو گیا۔ان دونوں معنوں کو بعد میں آنے والی آیت کے ساتھ ملا کر جب دیکھیں فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ جو شخص طوعی طور پر نیکی اختیار کرے اور نفلی رنگ میں کوئی نیکی کرنا چاہے تو اس کے لئے بہتر ہے۔اس آیت کے ساتھ ملا کر میں اس پوری آیت کا مضمون یہ سمجھتا ہوں کہ ایک معنی یہ بنیں گے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِين کہ وہ لوگ جو روزہ کی طاقت ہی