خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 381
خطبات طاہر جلد ۵ 381 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء اس شاخ کی طرف ہاتھ ڈالتے ہو۔ یہ تو شاخ مثمر ہے۔ اس پر تو خدا کی عبادت کے پھول اور پھل لگے ہوئے ہیں ۔ محمد مصطفی علی کو خدا نے جو جلال اور عزت مصطفی کو خدا نے جو جلال اور عزت کی تلوار دی ہے، وہ تلوار تمہارے ہاتھ پر چلے گی اور خدا اجازت نہیں دے گا کہ ان پر بہار شاخوں کو تم کاٹ سکو۔ زت نہیں دے گا کہ ان کے پارشاخوں کوتر خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد پانچ احباب اور خواتین کی نماز جنازہ ہوگی ۔اول مکرم محمد ابر ابن مکرم محترم چو ہدری حمید نصر اللہ خان صاحب امیر ضلع لاہور ۔ یہ ان کا بہت ہی پیارا معصوم بچہ تھا جو بچپن سے ہی بیمار تھا اور غالباً سولہ سال کی عمر یا اس کے لگ بھگ عمر ہو گی جب وفات ہوئی ہے۔ دائم المریض تھا لیکن نہایت ہی نیک فطرت شریف صورت اور فرشتہ خصلت بچہ تھا۔ ایک ہمارے افریقہ کے دوست یا الفا شریف صدر جماعت احمد یہ ہو ۔ یہ بھی وہاں کے فدائی مخلص احمدی جو اولین احمدیوں میں سے تھے ۔ مولانا نذیر علی صاحب کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی تھی اور سلسلہ کے ساتھ عشق اور فدائیت کا ایک نمونہ تھے۔ مکرمہ زینب افزا بیگم صاحبہ اہلیہ سید خیر الدین صاحب مرحوم ، سیٹھ داؤ داحمد صاحب بھٹی جو یو۔ پی (U۔P) میں تبلیغی منصوبہ بندی کے صدر ہیں ان کی والدہ ماجدہ تھیں ۔ مکرمه مریم بیگم صاحبه والدہ مکرم محمود عبدالله شبوتی صاحب ۔ یہ عدن کے نہایت مخلص خاندان سے تعلق رکھنے والی ہیں اور وہاں کے اولین احمدیوں میں سے تھیں ۔ مکرم عبد الکریم خالد صاحب ہو میو فزیشن آف گوجرہ ۔ یہ مکرم عبدالباسط صاحب طارق بٹ آف گوجرہ کے والد ماجد تھے انھوں نے بھی نماز جنازہ کے لئے درخواست کی ہے۔