خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد ۵ 375 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء عبد کا مطلب ہے غلام ، وہ جس کا اپنا کچھ بھی نہ رہے۔نہ مال اپنا، نہ بیوی بچے اپنے ، نہ وقت اپنا، نہ سونے جاگنے کے فیصلے اپنے کوئی خیرہ ہی نہیں، کوئی اختیار ہی اس کو باقی نہیں ہوتا۔کماتا ہے خون پسینہ کی کمائی سے کچھ گھر میں کما کر لاتا ہے تو وہ بھی مالک کا بن جاتا ہے اس کا نہیں رہتا۔تو عبد سے زیادہ کمزور کوئی اور وجود تصور میں آہی نہیں سکتا اور عبودیت میں بھی وہی مضمون چل رہا ہے، عبادت میں وہی مضمون چل رہا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر سب کچھ قربان کر کے خدا کے در پہ پڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں بس یہی در ہے اور کوئی در ہمارا نہیں رہا، اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔بظاہر دنیا کے لحاظ سے ان سے زیادہ خالی ہاتھ اور ان سے زیادہ بے بس اور بے گس اور کون ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہی کمزوروں ، انہی نہتوں ، انہی بے بسوں کو دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور کر کے اس لئے دکھاتا ہے کہ ان کا طاقتور دکھایا جانا خدا کی طاقت کا مظہر ہو جاتا ہے۔جن کے پاس اپنی طاقت کوئی نہ ہو جب وہ غالب آتے ہیں تو سوائے اس کے کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا کہ خدا غالب آیا ہے جس کی خاطر وہ نہتے اور بے جان ہوئے تھے اور بے بس ہوئے تھے۔وہ خالی برتن ہو جاتے ہیں۔بھرتے ہیں تو خدا کی محبت سے بھرتے ہیں۔وہ خالی ہاتھ ہوتے ہیں جن کو خدا کی طاقت مضبوط کرتی ہے اور توانائی بخشتی ہے۔ان کی سوچیں ان کے دل کے جذبات ، ان کی حرکت، ان کے سکون ہر چیز میں خدا بولنے لگ جاتا ہے اور اس وجہ سے وہ طاقتور ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ غالب آتے ہیں۔پس جنگ بدر کا واقعہ ہو یا جنگ احد کا ساری اسلامی تاریخ میں جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جہاد میں حصہ لیا ہے آپ کو یہ مضمون سب جگہ یکساں طور پر اطلاق پاتا ہوا دکھائی دے گا۔پہلی بات یہ کہ جہاد کے ساتھ ذاتی طاقت کا کوئی تصور قرآن کریم میں نہیں ملتا ، نہ آنحضرت کی زندگی میں ملتا ہے۔کمزور ہونے کے باوجود حق کی خاطر اٹھ کھڑے ہونا اور جد و جہد کرنا اس کا نام جہاد ہے اور پھر جو کچھ ہے وہ خدا کے حضور پیش کر دینا اور اپنی ذات کا کوئی بھی گھمنڈ باقی نہ رہنے دینا۔کامل طور پر خدا کے حضور جھک جانا اور اس کی عبادت میں مصروف ہو جانا اور اس کو اپنے لئے سب سے بڑی طاقت کا ذریعہ سمجھنا یہ اس کا دوسرا پہلو ہے۔چنانچہ جنگ بدر جب حضرت اقدس محمد شامل ہوئے۔یہ عجیب ہے جنگ جس میں آنحضرت ﷺہ مومنوں کی صفوں میں شامل نہیں تھے