خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 372

خطبات طاہر جلد۵ 372 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء زبر دست اکثریت اور قوت حاصل ہے کہ ہم جو کچھ بھی کر لیں بظاہر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم غالب آجائیں۔یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے وہ مدد کرتے ہیں باوجود اس کے کہ فتح غائب ہوتی ہے، فتح دکھائی نہیں دے رہی ہوتی ، ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آرہا ہوتا۔اب جماعت احمد یہ ساری دنیا میں جو کوشش کر رہی ہے عملاً ہم جانتے ہیں کہ ہماری کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔ساری دنیا کی جماعت کی جتنی بھی تعداد ہے اگر وہ سارے مل کر کوشش کر لیں تو دنیا کی مخالفانہ طاقتوں کے مقابل پر ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے، کسی پہلو سے کوئی حیثیت نہیں ہے۔اتنا کمزوری کا حال ہے کہ ہمارے ساری دنیا کے سالہا سال کے بجٹ کا مجموعہ اتنا بھی نہیں بنتا جتنا ایک دن میں انگلستان کے لوگ شراب پر خرچ کر دیتے ہیں۔تو ایسی جماعت جس کی کمزوری کا یہ حال ہو جس کے مقابل پر صرف ایک ایک عیسائی فرقہ کی طاقت کا یہ حال ہو کہ جتنی ہماری بعض ملکوں میں تعداد ہے اس سے زیادہ ، اس سے سینکڑوں گنا زیادہ ان کے مبلغ دنیا میں کام کر رہے ہیں۔صرف ایک کیتھولک مشن کے سولہ لاکھ سے زائد مبلغ دنیا میں کام کر رہے ہیں اور جو پروٹسٹنٹ مشنز کے مبلغ ہیں، دوسرے بہت سے میتھوڈسٹ ہیں کئی قسمیں ہیں ان کی بہت سے فرقے ہیں ھر مارمنز ہیں یہ سارے اتنا دنیا میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں کہ ان کی مجموعی کوششوں کو آپ ایک پلڑے میں ڈال کے دیکھیں تو ساری جماعت احمدیہ کی تعداد دوسرے پلڑے میں ڈال دیں تب بھی دنیا کے لحاظ سے ان کا پلڑا بھاری رہے گا۔پھر مولوی جو میدان میں کودا ہوا ہے جماعت کی مخالفت میں اور ان کے شاگر داور یہ سارے ان کی تعداد ذرا شمار کریں کتنے ہیں۔سارا ہزارہ ضلع مولوی پیدا کر رہا ہے، آزاد کشمیر مولوی پیدا کر رہا ہے، اس کے علاوہ بہت سے علاقے ہیں جہاں اقتصادی بدحالی دینی برتری میں تبدیل ہو رہی ہے اور مجبور ہو کر اور ذریعہ معاش میسر نہیں آتا تو لوگ دین کو کمائی کا ذریعہ بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ساری دنیا میں مولوی پھیل رہے ہیں وہاں سے نکل نکل کر۔ان کی تعداد ہی بے شمار ہے۔ان سے مقابلہ ہماری جماعت کے چند سو واقفین زندگی کا اگر عددی طور پر دیکھا جائے تو ان کے مقابل پر ہمارے واقفین زندگی آئیں گے۔اس لحاظ سے تو ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں بنتی۔تو اگر آپ ساری کوششیں بھی یعنی مومنوں کی جماعت اپنی ساری کوششیں ایک پلڑے میں ڈال دے تو اس کے