خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد۵ 31 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء بھی علم کا معنی نہیں لکھا ہوا جب میں نے یہ پڑھا اور آپ کو بتایا تو میں نے دوبارہ نظر ڈالی اور وہاں لکھا ہوا موجود تھا پھر تردد کے باوجود میں نے دوبارہ پڑھا کہ علم بھی ہے اور جب میں پڑھ چکا تو علم کا لفظ غائب ہو گیا اور فوری طور پر میں تعجب میں مبتلا تھا کہ اس مضمون کو کیسے جاری رکھوں کیونکہ نہ میرے نوٹس میں وہ شامل تھا نہ مجھے کبھی پہلے تصور بھی آیا تھا کہ قدر کا معنی علم بھی ہو سکتا ہے اور چونکہ دوبارہ دیکھنے کے باوجود بہت گھلا کھلا صاف لکھا ہوا موجود تھا اس لئے میں نے وہ پڑھ دیا چونکہ اگلا لفظ الزمہ تھا اس لئے میں نے اس کے ساتھ اُس کا تعلق باندھے کی کچھ کوشش کی لیکن پوری طرح دل کو تسلی نہیں ہوئی۔اس لئے دعا کی اللہ تعالیٰ جب ایک نیا مضمون دکھایا ہے تو اُس کے معنی بھی سمجھائے چنانچہ خدا تعالیٰ نے جو اُس کے معنی سمجھائے وہ ایسے حیرت انگیز ہیں اور اتنے وسیع ہیں اور اتنا قطعی طور پر قرآن کریم سے ثابت ہیں کہ پھر مجھے یہ تعجب ہوا کہ اس سے پہلے کسی کا خیال کیوں اس طرف نہیں گیا ؟ کیونکہ نہ اہل لغات میں نہ اہل تفسیر نے اشارۃ بھی اس بات کا کہیں ذکر کیا ہے۔علم کا معنی ہے سکھانا اور عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ علم کے معنی ایسا سکھانا ہے جس کا تعلق بیان سے ہو اور لفظوں سے ہو حالانکہ علم کا معنی کا تعلق محض لفظوں اور بیان سے نہیں ہے بلکہ وہ خاموش تعلیم جو فطرت میں ودیعت کی جاتی ہے اُسے بھی قرآن کریم تعلیم ہی کہتا ہے اور اُس کا لفظوں اور بیان سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔چنانچہ قرآن کریم نے اس تعلیم کو دوحصوں میں بانٹا اور اسکا الگ الگ ذکر فرمایا ہے چنانچہ ایک جگہ فرماتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمان : ۲-۵) کہ وہ رحمن خدا ہی ہے جس نے قرآن سکھایا ہے خَلَقَ الْإِنْسَانَ انسان کو بنایا۔عَلَّمَهُ الْبَيَانَ اور اُس کو بیان سکھایا تو قرآن کریم کے نزول کا تعلق بیان سے ہے اور ایسی تعلیم سے ہے جو لفظوں میں پیش کی جاتی ہے۔دوسری جگہ جب خدا تعالیٰ تخلیق عالم کا ذکرفرماتا ہے آسمان اور زمین اور پھر اُس کے نفس کی پیدائش کا تو وہاں فرماتا ہے وَنَفْسٍ وَمَا سَوبَهَاتٌ فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبَهَاتٌ (الشمس: ۸-۹) کہ ہم نے نفس کو پیدا کیا یعنی پہلے آسمان وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنُهَا (الشمس: 1) اس سے مضمون شروع ہوتا ہے وَالْاَرْضِ وَمَا طَحَهَا (الشمس: ۷ ) کہ ہم گواہ ٹھہراتے ہیں آسمان کو اور