خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 362
خطبات طاہر جلد۵ 362 خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء جو محمد مصطفی ﷺ کا قبلہ ہے تو یہ ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا ، ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے ہم زبر دستی اس مسجد کا قبلہ تبدیل کریں گے، کسی اور طرف اس کا رخ موڑ دیں گے، خدا کی عبادت کرنے والوں کا رخ زبر دستی پھیر دیں گے۔تو اب یہ حالت ہو چکی ہے تو علمائے سوء کے متعلق حضور اکرم ﷺ نے جو نقشہ کھینچے تھے اس میں سے کون سا جزو باقی ہے جو پورا ہوتا ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا۔آنحضرت کی فراست پر حیرت ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نے کتنی صفائی سے اور کتنی بار یکی سے ایک ایک چھوٹا چھوٹا جزو بھی حضور اکرم حے پر روشن فرمایا اور آئندہ کے سارے حالات کھول کر مو بمو آپ کے سامنے رکھ دیئے۔صلى الله جہاں تک کوئٹہ کی جماعت کا تعلق ہے، یہ جماعت خدا کے فضل سے ہمیشہ سے ہی بڑی بہادر جماعت ہے۔باوجود اس کے کہ ان کا ماحول بڑا سخت ہے اور بڑے کٹر قسم کے ایسے علماء سے ان کا واسطہ ہے جن کو اسلام کی معرفت یوں لگتا ہے چھو کے بھی نہیں گئی کبھی۔ایسے سخت دل ہو چکے ہیں ان کی تو کیفیت بنی اسرائیل کے علماء جیسی نظر آتی ہے اور قطعاً جان کا کوئی احترام نہیں ہے اور قطعاً انسانی عزت کا کوئی احترام ان کے دلوں میں نہیں رہا۔ان لوگوں سے واسطہ ہے اور اس کے باوجود اللہ کے فضل کے ساتھ ایک ذرہ بھی ان کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آئی۔اس سے پہلے امیر صاحب کو اپنی جماعت پر بدظنی تھی ، وہ سمجھتے تھے کہ یہاں کے حالات کو میں سمجھتا ہوں بہتر اور بڑے خطرناک حالات ہیں ، اس لئے بہت احتیاط کرنی چاہئے۔جماعت چاہتی تھی کہ قربانی میں وہ باقی سب جماعتوں کے برابر شانہ بشانہ چلے اور بشدت مجھے شکایتیں ملتی تھیں کہ ہمارے امیر صاحب کو کیا ہوا ہوا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم قربانی دیں یہ ہم سے نہ قربانی لیتے ہیں اور نہ ہمیں قربانی دینے کی راہوں پر چلنے دیتے ہیں اور ایک دو یا تین چار نہیں بیسیوں خطوط مجھے موصول ہوتے تھے۔یہاں تک کہ مجھے ایک موقع پر کمیشن بٹھانا پڑا کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ رفتہ رفتہ وہ امیر صاحب کو بزدل سمجھنے لگ گئے حالانکہ امیر صاحب اللہ کے فضل سے بزدل نہیں ہیں۔بعض لوگوں کی احتیاط کچھ زیادہ ہی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔تو ان کا یہ حال تھا، احتیاطیں ہو رہی ہیں اور مجھے بھی پیغام آتے تھے کہ آپ نہیں سمجھتے یہاں کے حالات میں سمجھتا ہوں، یہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اب خدا کی تقدیر میں جو ابتلا لکھے