خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد۵ 354 خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء ایک اور معنی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پھر بعض دفعہ ان کو خوشخبریاں دیتا ہے ان لوگوں کے متعلق جن کی یاد میں وہ حزن محسوس کرتے ہیں اور ان کو بتاتا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔چنانچہ یہ عمومی خوشخبری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی وجہ سے عطا ہوئی ہے کہ اگر کچھ لوگ بعض جدا ہونے والوں کا غم محسوس کریں تو اس بات پر بھی نظر کریں کہ جو جدا ہوئے ہیں فَرِحِينَ بِمَا أنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ ان کا تو حال یہ ہے کہ وہ بے انتہا خوش ہیں۔تو جن کو نعمتیں مل گئیں، جن کو خوشیاں عطا ہو گئیں ان کے لئے تم کیوں غم کرتے ہو، یہ مضمون ہے جو قرآن کریم کھول رہا ہے۔اپنے رب کے حضور حاضر ہیں اور بلکہ وہ لوگ جو ابھی قربانیاں نہیں کر سکے جن کا قربانیوں کا وقت نہیں آیا وہ تو ان کی قربانیوں کی راہ میں نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، وہ تو راہ دیکھ رہے ہیں کب ہمارے اور بھائیوں کو بھی شہادتیں نصیب ہوں اور وہ ہمارے ساتھ آکر آملیں۔یہ کیفیت ہے جس کی تفصیل ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کی زبان سے اس طرح ملتی ہے کہ یہ واقعہ جو حضوراکرم بیان فرماتے ہیں۔یہ حدیث قدسی کا درجہ رکھتا ہے۔یعنی یہ حدیث آپ کی اپنی حدیث نہیں بلکہ خدا نے آپ سے بیان فرمائی اور وہ واقعہ پھر آگے آپ نے صحابہ سے بیان فرمایا۔ترمذی میں جنگ احد کے متعلق یہ روایت آتی ہے ایک نوجوان صحابی جابر آپ کے سامنے آئے اور آپ نے دیکھا ان کا چہرہ باپ کی شہادت پر مغموم ہے۔فرمایا جابر ! کیا میں تمہیں ایک خوشی کی خبر سناؤں ؟ جابر نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا جب تمہارے والد شہید ہوکر اللہ کے حضور پیش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بے حجاب ہو کر کلام فرمایا اور فرمایا جو مانگنا چاہتے ہو مانگو۔تمہارے باپ نے عرض کیا اے میرے اللہ ! تیری کسی نعمت کی کمی نہیں لیکن خواہش ہے کہ پھر دنیا میں جاؤں اور تیرے دین کے راستے میں پھر جان دے دوں۔خدا نے فرمایا ہم تمہاری اس خواہش کو بھی ضرور پورا کر دیتے لیکن ہم یہ عہد کر چکے ہیں اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبیاء: ۹۶) یعنی کوئی مردہ پھر زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آسکتا۔جابر کے والد نے عرض کیا پھر میرے بھائیوں کو میری اطلاع دے دی جاوے تاکہ ان کی جہاد کی رغبت ترقی کرے۔اس پر یہ آیت اتری کہ جولوگ خدا کے رستے میں شہید ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھا کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے پاس خوشی کی زندگی گزار رہے