خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 350
خطبات طاہر جلد ۵ 350 خطبه جمعه ۱۶ رمئی ۱۹۸۶ء مِنْ خَلْفِهِمْ وہ تو ان لوگوں کی بھی راہ دیکھ رہے ہیں خوشیوں کے ساتھ جو ابھی ان سے نہیں ملے اور اس راہ میں ان سے ملنے والے ہیں یعنی وہ جو دنیا میں پیچھے رہ گئے اور ابھی شہید نہیں ہوئے لیکن ان کو علم دیا کہ وہ شہادت کا رتبہ پانے والے ہیں، ان کے متعلق غم کی بجائے وہ خوشیاں محسوس کر رہے ہیں اور بڑی خوشی سے ان کا انتظار کر رہے ہیں اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور ان کے دلوں کی اور ان کے وجودوں کی جو بھی کیفیت ہے ان کے اندر سے یہ آوازیں نکل رہی ہیں أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یہ ہمارے بھائی جو آنے والے ہیں یا جو پیچھے رہ گئے ہیں ہم سے ان کے لئے کوئی خوف اور کوئی حزن کا مقام نہیں ہے، کوئی غم کا مقام نہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ - يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ وہ اللہ کی نعمتوں کی وجہ سے جو نعمت خدا نے نازل فرمائی ہے خوش ہیں۔ وَفَضْلٍ اور اللہ کے فضل کی وجہ سے خوش ہیں ۔ وَ اَنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ اور اس وجہ سے خوش ہیں کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں فرمایا کرتا ۔ الَّذِينَ اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ یہ عجیب لوگ ہیں کہ باوجود اس کے کہ خدا کی راہ میں بار بار دکھ اٹھا چکے ہیں پھر بھی ہر قربانی کے میدان میں خدا کی اور خدا کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں - اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ خدا اور رسول کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں جو قربانی کے میدانوں کی طرف ان کو بلانے والی ہے ۔ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ حالانکہ اس راہ میں پہلے دکھ پہنچ چکے ہیں اسکے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرُ عظیم اور وہ لوگ جنہوں نے احسان کا سلوک کیا ان لوگوں میں سے اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ یہ مضمون تو بڑا واضح ہے لیکن اس میں ایک دو ایسے پہلو ہیں جو وضاحت طلب ہیں۔ جہاں یہ فرمایا لَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وہاں اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کی تو بڑی کھلی کھلی سمجھ ایک مومن کو آجاتی ہے۔ آج سارے پاکستان کے احمدی بلا امتیاز خوف سے بالکل عاری ہیں اور جن پر یہ ابتلا کا دور گزر رہا ہے ان کی طرف سے بار بار بڑی شدت کے ساتھ اور اصرار کے ساتھ یہ اطلاعیں پہنچتی ہیں کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہمارے دل پر کیا گزر رہی ہو گی ہرگز بالکل کسی