خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد۵ 349 خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء تعلق ہے اس میں ہمیں اختیار ہی کوئی نہیں ہے ہم سے پوچھتے کیا ہو۔یہ تو بیوقوفوں والی بات ہے کہ اپنا جبر چلانا ہے اور ہم سے پوچھ رہے ہو کہ جبر چلائیں کہ نہ چلائیں۔بہر حال پھر انہوں نے وہی حرکت کی جو آخری صورت میں انہوں نے پیش کی تھی اور ان سب کو قید کر کے تھانے میں پہنچا دیا اور مسجد کو مقفل کر کے سیل کر دیا گیا۔یہ عجیب واقعہ ہوا ہے حیرت انگیز انصاف کا کہ حملہ آوروں میں سے کسی کو قید نہیں کیا جاتا ، پتھراؤ کرنے والوں میں سے کسی کو پکڑا نہیں جاتا اور جن کی مسجد پر پتھراؤ ہوا اور جو مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے تھے وہ تو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور جو پتھر جھولیوں میں بھر کے گندی گالیاں دیتے ہوئے خدا کے گھر پر حملہ آور ہورہے تھے وہ عین قانون کے مطابق کام کر رہے تھے۔تو قانون کے سارے انداز بگڑ چکے ہیں وہاں، قانون کے تیور بدل چکے ہیں اور جس چیز کو اب وہاں قانون کہا جاتا ہے وہ عام دنیا کی اصطلاح میں اور معمولی عقل رکھنے والوں کی اصطلاح میں بھی لاقانونیت ہے۔بہر حال یہ واقعہ بھی گذر گیا۔ان دونوں کے متعلق قرآن کریم کیا مضمون بیان کرتا ہے اس سلسلہ میں میں نے ان آیات کا انتخاب کیا تھا جو ابھی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں اور ایک ہی تسلسل میں قرآن کریم نے ایک ہی مقام پر شہادت کے مضمون کو بھی بیان فرما دیا ہے اور ان لوگوں کے حال کو بھی کھول کے رکھ دیا جن کو ڈرایا جاتا تھا کہ ہم حملہ آور ہونے والے ہیں، تمہارے لئے خطرات لاحق ہیں اس لئے اپنے دین سے اور اپنے موقف سے ہٹ جاؤ۔سب سے پہلے تو قرآن کریم یہ عظیم الشان اعلان فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَه که تو ہر گز یہ گمان نہ کر کہ جو خدا کی راہ میں قتل ہوئے وہ اموات ہیں ، مرچکے ہیں، مردے ہیں۔بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ بلکہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔فَرِحِينَ بِمَا هُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِم وہ تو بہت خوش ہیں ان چیزوں کو دیکھ کر ان نعمتوں کو دیکھ کر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی ہیں اللہ کے بے شمار نازل ہونے والے فضلوں سے وہ بہت ہی خوش ہیں اور صرف خود اپنے بارے میں ہی خوش نہیں وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمُ