خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد۵ 348 خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء احباب جماعت کو پاکستان سے آنے والی دو خبروں سے اطلاع مل چکی ہوگی۔ایک تو سکھر سے تعلق رکھتی ہے جس میں ہمارے دو نہایت ہی پیارے اور مخلص بھائیوں کو ان میں سے ایک کا نام قمر الحق تھا اور یہ ہمارے امیر ضلع نجم الحق صاحب کے چھوٹے بھائی تھے اور ایک اور مخلص نوجوان خالد سلیمان کو ارمئی ۱۹۸۶ء کو سکھر میں شہید کر دیا گیا۔دوسری خبر کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہے کہ وہاں پولیس کی معیت میں ایک ہزار ، ڈیڑھ ہزار کے مجمع نے مسجد احمدیہ کوئٹہ پر حملہ کیا اور باوجود اس کے کہ علماء بہت پہلے سے اپنے بدا را دوں کو کھلم کھلا ظاہر کر چکے تھے اس کے باوجود حکومت نے نہ صرف یہ کہ روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ کلی ان کا ساتھ دیا۔پولیس کی معیت میں وہ مسجد کے قریب تک پہنچے۔پولیس کی نگرانی میں انہوں نے پتھراؤ کیا۔پانچ احمدی زخمی ہوئے اور باوجود اس کے کہ پولیس کی طرف سے ادنی مزاحمت بھی نہیں کی گئی۔ہر دفعہ جب کوئی احمدی نوجوان زخمی ہوتا تھا تو اس شدت اور جوش کے ساتھ مسجد نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھتی تھی کہ اس کے رعب سے وہ مجمع دوڑ کر پیچھے ہٹ جاتا تھا۔یہاں تک کہ جب وہ اپنے زور سے مسجد پر قبضہ نہیں کر سکے تو پولیس کے جو بھی وہاں افسران تھے اور ڈی سی نے امیر صاحب کوئٹہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ اب آپ کے لئے تین ہی صورتیں ہیں یا تو آپ مسجد کو خالی کر دیں اور ان کے حوالے کر دیں یا پھر تیار ہو جائیں اس بات کے لئے کہ ہم ان کو کھلی چھٹی دیں وہ جس طرح چاہیں آپ پر حملہ آور ہوں لیکن ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں کہ آپ میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچے گا اور تیسری صورت یہ ہے کہ حکومت زبر دستی آپ سے مسجد خالی کرائے ، 144 لگائے اور اس کا عذر رکھ کے آپ سب کو قید کرے اور مسجد خالی کر کے پھر جو چاہے اس سے کرے۔امیر صاحب نے اور سب مقامی دوستوں نے جو اس وقت حاضر تھے ان کو جواب دیا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم مسجد اپنے ہاتھ سے کسی کے سپر د کر دیں اس کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا قطعا یہ وہم ہی دل سے نکال دو۔جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے ہمیں قبول ہے تم پہلے بھی کون سی ہماری حفاظت کر رہے ہو، تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ اور ان کو آنے دو جو چاہیں کریں ، جتنی چاہے ہمیں قربانی دینی پڑے ہم ان لوگوں کو مسجد کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے اور موت سے تم ہمیں کیا ڈراتے ہو ہم تو پہلے ہی اس نیت کے ساتھ تیار ہو کر مسجد میں آئے تھے۔اور جہاں تک تیسری صورت کا