خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد۵ 343 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء نہایت خوفناک جھگڑے ہو جاتے ہیں، جہنم بن جاتے ہیں گھر لیکن اگر دعا کرے اور یہ شرط پوری کرے فَلْيَسْتَجِيبُوالی کچھ نہ کچھ تو کوشش کرتے کہ اس حسن و احسان کی تعلیم پر عمل کرے جو خدا تعالیٰ نے اسے کو عطا فرمائی ہے اُس کے اپنے فائدے کے لئے تو پھر دیکھیں کہ کس طرح خدا کی طرف سے برکتیں نازل ہوتیں ہیں، کیسی غیر معمولی تبدیلیاں آپس کے تعلقات میں پیدا ہوتی ہیں۔آخر پر طلبہ کے لئے اور نوجوان نسلوں کے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں لیکن خصوصیت کے ساتھ میرے پیش نظر وہ بچے ہیں جو ایسے ممالک میں پرورش پارہے ہیں جہاں غیر اسلامی تہذیب غالب ہے اور اُس کے نتیجے میں نئی نسل کی آنکھیں بدل رہی ہیں۔جب ہم شروع میں انگلستان آئے ہیں تو اس وقت خاص طور پر یہ محسوس کیا تھا کہ نئی نسل کی آنکھوں میں وہ اپنائیت نہیں ہے ، وہ قرب نہیں ہے جو احمدی نسلوں میں ہونا چاہئے ، یوں لگتا ہے غیر کے ہوتے چلے جارہے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی تبدیلی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دی جو دلوں کا مالک ہے۔اور اگر چہ بعض دور کی بسنے والی نوجوان نسلیں ابھی تک پوری طرح اس حد تک تبدیل نہیں ہوئیں کہ دل مطمئن ہو جائیں لیکن اکثر نوجوان لڑ کے کیا ، لڑکیاں کیا اللہ کے فضل سے غیر معمولی طور پر اپنے رحجان بدل چکے ہیں۔دین کی محبت پیدا ہو چکی ہے ، خدمتوں کے شوق پیدا ہو چکے ہیں۔ان کی دعاؤں میں غالب چیز یہ آنے لگ گئی ہے کہ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمیں اللہ کی محبت نصیب ہو ، خدا کا قرب نصیب ہو۔حمد سے دل بھر جاتا ہے ایسی دعاؤں کی درخواستیں دیکھ کر۔انگلستان میں پیدا ہونے والی نسلیں یہاں کے آداب اور یہاں کے اخلاق اور یہاں کے تمدن سے بظاہر مرعوب لیکن انہی کے دلوں سے خدا تعالیٰ نے معرفت کے چشمے بہانے شروع کر دیئے ہیں اور چھوٹی چھوٹی عمر کے بچے اور چھوٹی چھوٹی عمر کی لڑکیاں ایسی دعائیں لکھنے لگ گئی ہیں کہ جن کے نتیجے میں اللہ کی حمد سے دل بھر جاتا ہے۔لیکن ابھی بہت سے حصے ایسے ہیں ، مغرب ہی کے نہیں مشرق کے بھی ، ہندوستان کے بھی ، بنگلہ دیش کے بھی، انڈونیشیا کے بھی ملائیشیا کے بھی دور دارز ممالک کے جہاں دہر یہ تہذیب یا مغربی تہذیب بڑی تیزی کے ساتھ اپنے جال پھیلا رہی ہے اور ہماری نسلوں کو بڑے خطرات درپیش ہیں۔جہاں ہر قسم کی کوششیں کریں گے وہاں اس رمضان المبارک میں نئی نسلوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں اور رمضان المبارک کی برکتوں سے ان کو عملاً آشنا کرنے کی کوشش کریں۔کچھ نہ کچھ لقمہ لقمہ