خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 342
خطبات طاہر جلد۵ 342 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور دنیاوی رشتوں میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔چنانچہ ایک بادشاہ کے دربار کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہاں یہ بحث چل نکلی کہ ماؤں کو اپنے بدصورت بچے بھی اچھے لگتے ہیں اور فی الواقعہ اچھے لگتے ہیں ایک اور فریق یہ کہہ رہا تھا کہ ہر گز نہیں ان کو بدصورت بدصورت ہی لگتے ہیں لیکن مامتا سے مجبور ہیں اس لئے وہ اُن سے پیار کرتی ہیں۔جو لوگ اس بات کے قائل تھے کہ واقعہ اچھے لگتے ہیں انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ ہم ایک امتحان آپ کو بتاتے ہیں فلاں بشن جس کو وہ جانتے تھے وہ خادمہ ہوگی یا لونڈی ہوگی اس کا ایک انتہائی بدصورت بچہ ہے۔آپ ایک قیمتی ہار اس کے سپرد کریں اور خوبصورت ترین بچے اکٹھے کر لیں محل میں اور اس کو یہ کہیں کہ تم نے یہ ہار اس کے گلے میں ڈالنا ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہے، یہ نہیں کہ تمہیں اچھا لگتا ہے، جو واقعہ تمہیں نہایت ہی حسین و جمیل دکھائی دے رہا ہے اس کے گلے میں جا کر یہ ہار ڈال دو۔چنانچہ شہزادے بھی سبج کر آئے اور امیروں کے بچے بھی اور دوسرے شہر کے خوبصورت بچے اکٹھے ہوئے اور ان میں ایک وہ بدصورت بچہ بھی تھا۔وہ ہار لے کر کھڑی ہے صف بصف اور کوئی خوبصورت نظر نہیں آرہا تھا جب اپنا بچہ دکھائی دیا تو دوڑ کے اس کے گلے میں وہ ہار ڈال دیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب خدا محبت پیدا فرمادے ، خدا دل نرم کر دے تو بد زیب چیز بھی خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے۔قُرَّةَ أَعْيُنِ مانگنی چاہئے۔آنکھوں کی ٹھندک دے جس طرح چاہے دے دے۔ادا کی بات ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ محبت عطا فرمائے تو ہرا دا بھلی لگنے لگ جاتی ہے خواہ وہ دوسرے کو کیسی بُری لگ رہی ہو۔ہم نے ایسی مائیں دیکھی ہیں جن کے بچوں کی نہایت بیہودہ ادا ئیں ہوتی ہیں اور مصیبت پڑی ہوتی ہے جس گھر میں وہ بچے لے کر جاتی ہیں اور وہ بار بار توجہ دلا رہی ہوتی ہیں شوق سے کہ یہ دیکھو اس نے یہ حرکت کی ، یہ دیکھو اس نے یہ حرکت کی۔اعصاب ٹوٹ جاتے ہیں ان بیچاروں کے جن کو یہ حرکتیں دکھائی جارہی ہیں۔لیکن وہ ماں ہے اس کو تسکین ہی نہیں مل رہی کہ پوری طرح اس کی ابھی داد نہیں دی گئی ، پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوا کوئی۔اللہ کے کرشمے ہیں یہ ، دل صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ یوں دو انگلیوں کے درمیان خدا نے دل پکڑے ہوئے ہیں ( ترمذی کتاب القدر حدیث نمبر ۲۰۶۶)۔وہی بدل سکتا جس طرف چاہے ان کو یوں پلٹا دے۔تو یہ نفسیاتی کیفیات جتنی ہیں ان کے نتیجے میں بعض دفعہ