خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد۵ 341 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء مردوں کے لئے دعا ہے جو اپنی بیویوں کے حق میں مانگ رہے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔یہ بیویوں کے لئے بھی اُسی طرح دعا ہے جو خاوندوں کے لئے مانگ رہی ہیں۔اور اس دعا کے نتیجے میں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہونگے وہاں اس مضمون کی روشنی میں یہ دعا کریں جو میں نے بیان کیا ہے۔فَلْيَسْتَجِوانِی اگر دیانت داری اور تقوی سے ایک خاوند یہ دعا کرتا ہے تو اسے یہ سوچنا پڑے گا کہ میں اس دعا کا حق دار بن بھی رہا ہوں کہ نہیں ، خدا تعالیٰ نے جو عائلی ذمہ داریاں مجھے پر ڈالی ہیں کیا میں انہیں ادا کر رہا ہوں، اگر نہیں کر رہا تو پھر یہ دعا کس منہ سے مانگوں گا، پھر میں کیسے توقع رکھ سکتا ہوں ایک طرف تو خودا باحت کا شکار ہوں، واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے حکموں کا انکار کر رہا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے مانگ رہا ہوں کہ یہ کچھ مجھے دے۔جو میرے اختیار میں تھا پھر بھی میں نے نہیں دیا ، جو کچھ میں لے سکتا تھا اُس کا تو میں انکار کرتا ہوں اور اُس کے باوجود اُس کے نتیجوں سے محروم نہیں رہنا چاہتا، ایسی نا معقول دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے۔پس خواہ عورت دعا کرے خواہ مرد دعا کرے، جب وہ اس بنیادی آیت کی روشنی میں جو میں نے تلاوت کی ہے دعا کرے گا یا دعا کرے گی تو اس کے نتیجہ میں حیرت انگیز طور پر گھروں میں پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ازواج کا وسیع تر مضمون جو ہے اس میں صرف میاں بیوی کا رشتہ نہیں ہر جوڑ از واج کے اندر آ جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس زوج کے لفظ کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال فرمایا ہے اور جہاں جنسی فرق نہیں بھی ہے وہاں بھی زوج کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔دراصل کا ئنات کی ہر چیز میں خدا تعالیٰ نے زوجیت رکھ دی ہے۔اس وسیع مضمون کے لحاظ سے ساتھیوں کے لئے بھی یہ دعا بن جاتی ہے، ایک گھروں میں رہنے والوں کے لئے بھی یہ دعا بن جاتی ہے اور اس دعا کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔فرمایا اُن کو ہمارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔اس میں ایسے مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں جن کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا۔ایک عورت کو خاوند کی بعض ادا ئیں بہت بُری لگتی ہیں، نفرت پیدا کرنے والی ہیں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اُن کو تبدیل کر سکے۔ایک مرد کو اپنی بیوی کی شکل یا اُس کی کوئی اور حرکتیں ایسی ناپسندیدہ ہیں جنہیں وہ ٹھیک نہیں کر سکتا نہ بیوی کے بس میں ہے کہ اُن کو ٹھیک کر سکے۔تو قُرَّةَ أَعْيُنِ کی دعا جو ہے اس میں بڑی گہری حکمت ہے بعض دفعہ وہ اصلیت تبدیل نہ بھی ہو تب بھی اللہ دل پھیر دیتا ہے اور وہی چیز اچھی لگنے لگ جاتی ہے اور یہ کلیہ