خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 338

خطبات طاہر جلد۵ 338 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء ہو تو انّي قَرِيب کے اندر بھی بہت سی بعید منازل ہیں لمبے فاصلے ہیں جنہیں طے کرنا پڑتا ہے وہ فاصلے طے کریں تو پھر قریب کا مضمون سمجھ آجائے گا۔پس یہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہم میں وہ سچا جذبہ پیدا کرے خدا کی طلب کا اور اس سچے جذبے کے ساتھ وہ عمل صالح عطا کرے جس سے دعا رفعت پاتی ہے۔اور قرآن کریم نے دعا کے اس مضمون کو ایک دوسری جگہ خوب واضح فرما دیا کہ کلمہ طیبہ خدا کے حضور پہنچتا تو ہے لیکن عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے۔انرجی کے بغیر کس طرح کوئی چیز رفعت پاسکتی ہے۔ہوائی جہاز کتنا اچھے ڈیزائن کا ہو، کتنا عمدہ بنا ہوا ہوا گر اُس میں پٹرول نہیں ہے تو اونچا اڑے گا کیسے؟ وہ تو زمین پر چلنے کے بھی قابل نہیں۔تو فرمایا اسی طرح تمہارے پاک کلمات تمہاری دعا ئیں تمہارے عمل سے قوت پاتی ہیں، عمل کی طاقت بخش تو پھر اُن کو دیکھو کہ کس طرح وہ بلندیوں پر پرواز کرنے لگیں گی۔الله میں جب قرآن کریم کے ان پہلوؤں پر غور کرتا ہوں تو حیرت سے میرا سر اس عظیم کلام کے حضور جھک جاتا ہے۔کوئی دنیا کا ایسا مذہب نہیں جو اتنا Scientific کلام خدا کی طرف اس کو منسوب کر کے پیش کر سکتا ہو۔یہ درست ہے کہ دوسرے مذاہب کا نازل فرمانے والا بھی خدا ہی تھا۔مگر ہر انسان کا ظرف دیکھ کر اس کو عطا کیا جاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی ہے وہ حضور اکرم ﷺ کے طرف سے براہ راست تعلق رکھتی تھی۔اس پہلو سے جب اس کلام کی شان دل کو مرعوب کر لیتی ہے اور دل پر حاوی ہو جاتی ہے تو شان محمد مصطفی ﷺ بھی اسی طرح دل کو مرعوب کر لیتی ہے اور دل پر حاوی ہو جاتی ہے۔اتنا عظیم الشان کلام قلب محمد ﷺ کے سوا کسی چیز پر نازل ہو ہی نہیں سکتا اور اتنا کامل کلام۔اتنی باریکی ہے اس میں، اتنی لطافتیں ہیں، اتنا ربط ہے کہ عقل دنگ ہو جاتی ہے جب اس مضمون پر غور کرتی ہے چنانچہ حقیقتہ یہ امر واقعہ ہے کہ جدید ترین سائنسی اصطلاحیں جو ایک لمبے سائنسی تجربے کی بناء پر بنائی گئیں ، چودہ سو سال پہلے روحانی دنیا میں اس قسم کی بلکہ اس سے بہتر مکمل اصطلاحیں ملتی ہیں اور وہ مضامین سادہ سی آیتوں کے پس منظر میں پوشیدہ ہیں۔اگر آپ ذرا غور کریں اور توجہ کریں تو وہ آپ کو نظر آنے لگ جائیں گے۔پس دعا کے مضمون کو سمجھنا ہو تو قرآن کریم ہی کی دوسری آیات اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات جن میں سے ایک میں نے نمونہ پیش کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے