خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 337
خطبات طاہر جلد۵ 337 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء کر سکتا کہ یہ کتنی مشکل دعا ہے۔جو بظاہر ایک دو حرفوں پر مشتمل ہے، ایک دولفظوں پر مشتمل ہے۔اے ہے۔اے خدا میں تجھ سے مانگتا ہوں تجھی کو، ہر انسان کہہ دے گا مگر جس کو مانگتا ہو اس کی تمنا بھی تو ہونی چاہئے دل میں۔بغیر محبت کے مانگو گے بھی تو آئے گا کون؟ بغیر پیار کے طلب بھی کرو گے تو اُس کے نتیجے میں جواب دینے والا جواب کیوں دے گا، اُس طلب کو پورا کیوں کرے گا ؟ لوگ تو محبوبوں کی بھی منتیں کرتے ہیں کہ ہمارے گھر چلے آؤ اور محبت رکھتے بھی ہیں تب بھی وہ نہیں آتے۔لیکن بعض اوقات ایک ذہین آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میری طلب میں کچھ کمی رہ گئی تھی اگر میں اپنی طلب کے معیار کو بڑھا تا تو ممکن نہیں تھا کہ وہ انکار کر سکتا اور اس بات میں حکمت ہے۔چنانچہ غالب نے جب یہ کہا کہ : میں بلاتا تو ہوں اُس کو مگر اے جذ بہ دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے (دیوان غالب صفحه ۲۹۶) اس میں گہری حکمت کی بات ہے کہ بظاہر تو شاعر یہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہماری طلب تو بہت ہے، ہمارے دل کی تمنا تو سچی ہے مگر محبوب سنتا ہی نہیں ہے، اُس پر اثر ہی نہیں ہوتا۔لیکن ایک اُن میں ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ میری طلب کا قصور ہے، میری طلب میں وہ شدت نہیں پائی جاتی، وہ قوت نہیں ہے، اگر میری طلب میں قوت ہو تو اس کا گزارہ ہی نہیں ہوسکتا بن آئے ہوئے۔بے اختیار کشاں کشاں چلا آئے گا اگر میری طلب میں قوت پیدا ہو جائے۔یہی مضمون زیادہ اعلیٰ اور نہایت ارفع رنگ میں اس آیت میں بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب یہ دعا کرتے ہیں واز چے۔میں خوا ہم از تو نید مر توری تو اس لئے قبول ہوتی ہے کہ مسیح موعود کی دعا ہے ، اس لئے قبول ہوتی ہے کہ ایک انسان کی ساری زندگی گواہ ہے کہ اس دعا کا ایک ایک حرف اور اُس حرف کا ہر معنی سچا ہے۔زندگی بھر ، بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اُس شخص نے کوئی اور طلب نہیں کی سوائے اس طلب کے۔اور اپنا سب کچھ اس ایک طلب کی خاطر قربان کر دیا۔تب یہ دعا پیدا ہوئی ، تب اس دعا میں وہ قوت پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں اِنِّي قَرِیب کے سوا کوئی جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ممکن ہی نہیں ہے کہ اس شان کی دعا اس سچائی کے جذبے کے ساتھ اس سچائی کے پس منظر کے ساتھ کی گئی ہو اور اس کا جواب اِنِّي قَرِیب نہ