خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد۵ 336 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ دعائیں سنیں جاتی ہیں بلکہ اس کا قرب بذات خود أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کا ایک ثبوت ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نکتہ ہمیں بتایا کہ اس کا معنی بنیادی اور حقیقی معنی اور سب سے اعلیٰ معنی یہ نہیں ہے کہ تم خدا سے اپنی ضرورتیں مانگو تو وہ قریب ہے بلکہ یہ ہے کہ تم خدا سے خدا کو مانگو، اُس کی تمنا کرو، اسے چاہو تو تم پھر دیکھو گے کہ وہ تمہارے قریب ہے۔اور جتنی تمنا ہوگی اتنا ہی زیادہ قرب محسوس کرو گے۔سب کچھ مانگ لو گے اگر خدا سے خدا کو مانگ لو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو اپنے ہی ایک دعائیہ شعر میں یوں بیان فرماتے ہیں: در رو عالم مرا عزیز توئی وانچه میخواهم از تو نیز توئی کہ اے خدا دونوں جہان میں میرا تو تو ہی عزیز ہے، یہ دونوں جہان میں نے کرنے کیا ہیں۔وانچہ میخوا ہم از تو نیز توئی، تجھ سے میں جو چاہتا ہوں وہ تُو چاہتا ہوں۔تُو مجھے مل جائے اور یہی میرا مقصود ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے نہایت اعلیٰ اور ارفع مضمون کو ہم پر روشن فرما دیا جب یہ بتایا کہ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں اپنی طرف ضمیر جو پھیری گئی کہ میں بندے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے بلاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ میری طلب کرتا ہے اور جو خدا کی طلب کرنے والا ہوتا ہے اس کی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اس دعا میں ہر دوسری دعا شامل ہو جاتی ہے اور یہی قریب کا مضمون ہے۔انسان قریب ترین ہو جاتا ہے خدا کے جب خدا سے خدا کو مانگے۔( تفسیر مسیح موعود جلد اول سورۃ البقرہ زیر آیت اجیب دعوة الداع) پس اس رمضان مبارک میں سب دعاؤں سے بڑھ کر اس دعا کو اہمیت دیں کہ ہمیں خداوہ استجابت بخشے جس کے نتیجے میں وہ دعائیں قبول فرماتا ہے یعنی خدا کے ارشادات کی استجابت ہمیں عطا کرے تا کہ ہماری دعاؤں کو اُس کے حضور استجابت عطا ہو اور ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ اُس کی تمنا کریں اور یہ تو فیق بھی اُسی سے مانگنی پڑے گی ، اس کے لئے بھی اُسی کے حضور دعائیں کرنی پڑیں گی کیونکہ بظاہر یہ کہہ دینا تو بہت آسان ہے کہ اے خدا! میں تجھ سے تجھے مانگتا ہوں لیکن حقیقت میں اس دعا میں مغز پیدا کرنا اس دعا میں جان پیدا کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔عام انسان تصور بھی نہیں