خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد۵ 28 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء اور پھر فرمایا: وَلَقَدْ جَاءَ الَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ كَذَّبُوا بِايْتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَهُمْ لدالة لدله : کیمرا ) أَخْذَ عَزِيزِ مُّقْتَدِرٍ فَإِمَّا نَذَهَبَنَ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ اَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنُهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُّقْتَدِرُونَ (الزخرف:۴۲ ۴۳) یہ قرآن کریم کی مختلف آیات جو مختلف سورتوں سے اخذ کی گئی ہیں۔ان کا تعلق خدا تعالیٰ کی دوصفات قادر اور مقتدر سے ہے لیکن پہلے اس سے کہ اس مضمون پر میں کچھ کہوں گزشتہ مضمون جس کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفت قدیر کے قدیر ہونے سے تھا اُس سے متعلق چند باتیں باقی ہیں جو میں پہلے بیان کروں گا۔عملاً تو ایک ہی مادے سے یہ تینوں صفات نکلی ہیں۔قدرت یا قدر سے اور قدر بھی دال کی زبر کے ساتھ لیکن عربی کا طریق یہ ہے کہ مختلف سانچوں میں ڈھل کر ایک ہی مادہ مختلف معنی دینے لگ جاتا ہے اور ہر سانچے کا اپنا ایک خاص مضمون ہے جو اس لفظ میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے یہ صفات اپنے خصوصی معنی بھی رکھتی ہیں حالانکہ بنیادی طور پر ایک ہی مادے سے نکالی ہوئیں ہیں۔چنانچہ جہاں تک قدیر کا تعلق ہے اُس کی بحث کے دوران میں یہ بتا رہا تھا کہ ایک ایسا مضمون بھی ہے جس کا میں بعد میں ذکر کرونگا کیونکہ قدرت کے بعض معنی بھی بیان کرنے باقی ہیں۔وہ مضمون ایک مناظرے سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے دشمن جن میں عیسائی بھی شامل ہیں اور آریہ ہند و خصوصیت کے ساتھ پیش پیش ہیں۔بار بار جو صفات باری تعالیٰ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ان پر مختلف رنگ میں اعتراض کرتے ہیں۔خصوصیت کے ساتھ اِنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ کے اوپر اعتراض بھی اور ٹھٹھے بھی بہت کئے گئے ہیں اور یہ بخشیں آریوں کی طرف سے اٹھائی گئی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ ہر گناہ پر قادر ہے، خودکشی پر قادر ہے، ہر بد فعل پر قادر ہے۔عیسائیوں کی طرف سے بھی ہر چیز پر قادر ہونے کے بیان پر اعتراض کئے گئے لیکن سب سے زیادہ دکھ والی بات یہ ہے کہ خود مسلمان علماء نے بھی ان بحثوں کو اٹھایا اور بڑے بڑے مناظرے ان باتوں پر ہوئے۔یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی قریب ہی کی تاریخ