خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد۵ 331 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء تو ہیں اس لئے ترجمے میں ”اے رسول“ کر دیا گیا ورنہ لفظ رسول کا لفظ آیت میں استعمال نہیں ہوا۔فرمایا: اے وہ جس کو مخاطب کرتا ہوں۔یعنی اے رسول ! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو تو جواب دے کہ میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی دعا قبول کرتا ہوں۔تو چاہئے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھے صلى الله پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔“ اس آخری آیت کے متعلق بھی بعض مترجمین اور بعض مفسرین کچھ دقت محسوس کرتے رہے ہیں اور مختلف رنگ میں اس کا حل بھی پیش کیا گیا۔خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب کہ اے محمد ﷺ جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔اس کے متعلق یہ دقت محسوس کی گئی کہ ہر دعا تو قبول نہیں ہوتی در بہت سے پکارنے والے ایسے بھی ہیں جو جنگلوں میں ،شہروں میں ، ویرانوں میں اپنی دانست میں خدا کو پکارتے رہے اور کوئی جواب نہ پا کر بالآخر د ہر یہ ہو گئے۔اس قسم کی مثالیں دنیا میں بکثرت ملتی ہیں۔ایک انسان نے دعائیں کیں اور دعائیں قبول نہ ہوئیں۔اپنی ماں سے پیار تھا، ماں کو بچانے کے لئے دعائیں کیں، بچے سے پیار تھا، بچے کو بچانے کے لئے دعائیں کیں۔مصیبتوں میں مبتلا تھے مقروض تھے ان سب تکلیفوں سے نکلنے کے لئے دعائیں کیں اور کوئی جواب نہ پایا اور اس کے نتیجہ میں صلى الله جو بد قسمت تھے وہ خدا کے منکر ہو گئے۔تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے کہ اے محمد ملے تو یہ اعلان کر دے۔جو سب سے زیادہ سچا ہے اگر اس کے منہ سے یہ اعلان کروا دیا جائے اور پھر دنیا اس بات کو پورا ہوتا نہ دیکھے تو کتنی بڑی ٹھوکر کا مقام بن جاتا ہے۔اس کا ایک حل یہ پیش کیا گیا کہ یہ آیت ابھی جاری ہے اور یہ تو ابھی اس آیت کا ایک ٹکڑا ہے جس کو اس دوسرے ٹکڑے کے ساتھ ملا کر پڑھو تو مطلب سمجھ آئے گا۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔پس چاہیے کہ پکارنے والا یعنی میرے حضور دعا کرنے والا میری باتوں کو بھی تو سنے ، جو ہدایت میں دیتا ہوں اس پر بھی تو عمل کرے وَلْيُؤْمِنُوا ئی اور