خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد ۵ 325 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بری چیزوں پر ہاتھ ڈالتی ہے اور اُن کو اچھی چیزوں میں تبدیل کرنا وہ کا شروع کر دیتی ہے۔ صلى الله آنحضرت ﷺ کے عشق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مد میں گائی ہیں جو عجیب آسمانی گیت گائے ہیں ان میں اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ کیا گند تھا اس ماحول میں ، گندگی کو اپنی مٹھی میں لیا ہے اور چمکتے ہوئے سونے کی ڈلیوں میں تبدیل کر دیا ، کندن بنا دیا۔ یہ تھے حضرت اقدس محمد مصطفی عا لیکن جو حسد کرنے والے لوگ ہیں وہ سونے کی ڈلیوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور اُن کو گندگی میں تبدیل کرتے چلے جاتے ہیں ۔ پس ہر طرف ہر رشتے میں ، ہر تعلق میں ، ہر معاملے میں نیکیوں میں بھی اور بدیوں میں بھی ، دینی معاملات میں بھی ، دنیاوی روز مرہ کے انسانی تعلقات میں بھی ہر جگہ آپ کو حسد اپنی کمین گاہوں میں چھپا ہوا دکھائی دے گا اور حملہ کرے گا مختلف ناموں پر کبھی یہ سو کنا پن کے ظاہر ہو جائے گا، کبھی بغض و عناد بن کے ظاہر ہوگا، کبھی عظیم مذہبی تحریک کی شکل اختیار کرلے گا اور فتنہ ارتداد ہو گا لیکن بظاہر فتنہ ارتداد مٹانے کے نام پر چل رہا ہوگا۔ عجیب و غریب بھیس بدلتا ہے اور نتیجہ بالآخر جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرما دیا ہے ہر صورت میں یہ نکلتا ہے کہ حسد کرنے والے کا نقصان ہوتا ہے۔ حسد کرنے والا بالآخر مارا جاتا ہے۔ جہاں حسد ملتا ہے وہاں کس گھولا جاتا ہے اور زہر پھیل جاتا ہے۔ ایک افعی کی طرح ہے، سانپ کی طرح ہے حسد جو دل کے تاریک گوشوں میں بیٹھا کنڈل مارے بیٹھا رہتا ہے جب موقع ملے یہ اپنا ز ہر پھونکتا ہے اور دوسروں کے رگوں میں داخل کر دیتا ہے۔ اس لئے فرمایاوَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۔ نقشہ یہی کھینچا ہے کہ حاسد کمین گاہ میں انتظار میں بیٹھا رہے گا ۔ روز مرہ کی زندگی میں ہر وقت اُس سے شرظاہر نہیں ہوتا۔ ایک حاسد خوبیوں کا مالک بھی ہوتا ہے بسا اوقات ۔ ایک ایسا بھی حاسد ہم نے دیکھا ہے جو خود غریب کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ کچھ ہمدردیاں بھی رکھتا ہے لیکن جن سے حسد ہے اُن کی ہر بات اس کو بری لگ رہی ہوتی ہے۔ اس لئے فرمایا وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ا یسے فتنہ پرداز انتظار میں بیٹھے ہونگے بظاہر وہ نیک نظر آ رہے ہونگے ، بظاہر ان کی طرف سے کسی دوسرے کو شر نہیں مل رہا ہو گا لیکن اگر وہ تم سے حسد رکھتے ہیں تو خبردار! کوئی ایسا وقت آئے گا جب اُن کو موقع ملے گا اور وہ ضرور حسد کی کچلیاں تمہاری رگوں میں داخل کردیں گے۔ اپنے رب سے دعا مانگو کہ وہ اس شر سے بچائے ۔اور