خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد۵ 324 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء اُس کی مثال ہی کوئی نہیں اور بیوی کا پیار بالکل اور نوعیت کا ہے۔لیکن حسد جب زور مارتا ہے تو ان دونوں پیاروں کا آپس میں مقابلہ کروا دیتا ہے اور ماں جلتی رہتی ہے کہ اس لڑکی کی طرف خاوند نے اتنی توجہ کی اور میں اب اس کی برائی دکھاتی ہوں اُس کو اور خود اپنا نقصان کرتی ہے۔اپنے گھر کا ماحول تباہ کر لیتی ہے، اپنے بیٹے کے لئے ، اپنی بہو کے لئے دکھ کا موجب بن جاتی ہے اور بیویاں جب جلتی ہیں ماؤں سے یعنی اپنی ساسوں سے تو خاوند کے کان بھرتی رہتی ہیں۔اُن کے دلوں میں ماں کے خلاف جذبے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔تو حسد ہر جگہ کاٹنے والا کام کرتا ہے۔وَ مِنْ شَرِّ النَّقْتُتِ فِي الْعُقَدِ کے بعد رکھا ہے اس کو وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔حسد کے نتیجے میں تعلقات ٹوٹتے ہیں اور جدائیاں پیدا ہوتی ہیں اور حسد کے فقدان کے نتیجہ میں یعنی اگر سچار شک ہو ، محبت ہو اور پیار ہو تو اُسکے نتیجے میں وصل پیدا ہوتا ہے اور جدائیاں ہٹتی ہیں۔جتنے بھی معاشرے ہمارے میں باہمی تعلقات ہیں جدائیاں پیدا کرنے والے جذبات ہیں یا جدائیاں پیدا کرنے والی حرکات ہیں اُن کے پیچھے آپ کو بسا اوقات حسد کام کرتا ہوا دکھائی دے گا اور حسد انسان کو کمینہ بھی بنا دیتا ہے۔حسد بالآ خر نظر کو اتنا تنگ کر دیتا ہے کہ کسی کی خوشی برداشت ہی نہیں ہوتی۔چنانچہ آپ کو ایسے طعنے بھی ملیں گے کہ ایک غریب لڑکی کسی امیر گھر میں بیاہی آئی ہے اور وہ خوش ہوئی ہے آکر ، اُس کو اچھا ماحول ملا ، اُس کو آرام نصیب ہوا، اُس کو پہلے پورا کھانا ٹھیک نہیں ملتا تھا یہاں اچھا کھانا کھانے کو ملا۔اب یہ بات ساس کو بھی تکلیف دے رہی ہے نندوں کو بھی تکلیف دے رہی ہے۔اس کی کیا حیثیت تھی۔ساس کہتی ہے یہ میرے بیٹے کی وجہ سے کھا رہی ہے اور نندیں کہتی ہیں ہمارے بھائی کی وجہ سے کھا رہی ہے۔تو جب تک وہ اس کا بدلہ نہ اتار لیں جب تک اس خوشی کو دکھ میں تبدیل نہ کر دیں اُن کو چین نہیں آتا۔بعض دفعہ تعریف کے بہانے بات کرتی ہیں کہ بڑی اچھی صحت ہوگئی ہے، بڑی موٹی ہوگئی ہے ، اس کے کپڑے تنگ ہو گئے ہیں۔دوسرا کہے گا ہاں بھائی جو خیال رکھتا ہے کھانا کھلاتا پلاتا ہے پہلے کہاں نصیب تھیں اس کو یہ باتیں۔اب وہ جو کچھ بے چاری کا کھایا پیا ہے وہ سب زہر میں بدل دیتے ہیں۔تو حسد اچھی چیز کو پکڑتا ہے اور اس کو گندی چیزوں میں تبدیل کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے مقابل پر محبت سچی انسانی ہمدردی جو اللہ تعالیٰ سے پیار کے نتیجے میں خدا سے تقویٰ