خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد ۵ 322 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء آگے آجاتے ہیں، اُن سے کام زیادہ لئے جاتے ہیں ، اُن پر زیادہ اعتماد کئے جاتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُن باتوں کو دیکھ کر اُن کے لئے دعائیں کرتے ہیں، اُن سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ بظاہر اُن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اُن کو پیار کے خطوط لکھتے ہیں ، اُن کی خدمت کی تمنا دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور پھر یہ دعا کرتے ہیں کہ کاش! ہمیں بھی توفیق ملے ، ہم بھی اسی طرح اپنی جانی قربانی کریں ، وقت کی قربانی کریں اور کچھ لوگ ہیں جو جلتے جاتے ہیں آگ میں، اپنی ہی آگ میں وہ دن رات بھسم ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ دیکھو ! ان لوگوں کو بڑا آگے کیا جارہا ہے، یہ تو بڑے ریا کار لوگ ہیں، ان کا کام سوائے اس کے کہ چودھراہٹ اختیار کریں ، آگے کاموں میں بڑھیں ہر چیز پر قبضہ کر لیں اور کوئی کام ہی نہیں ان کا اور پھر انتظار میں رہتے ہیں اُن بے چاروں سے جہاں کوئی غلطی ہو اُس کو پکڑ لیتے ہیں اُس کو پیتے ہیں اُس کو رگڑ رگڑ کے اس طرح ساری جماعت میں اُس کو مشتہر کرتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی۔اُس سے بڑی غلطیوں میں خود مبتلا ہوتے ہیں لیکن سلسلے کے ایک کارکن کی چھوٹی غلطی بھی برداشت نہیں ہوتی۔وجہ یہ ہے کہ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ چونکہ حسد ہے دل کے اندر اس لئے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، جہاں کوئی ایسا شخص جس پر خدا کا فضل ہوا ہو اُس کو نقصان پہنچایا جا سکے۔اب کھول کر بیان کر دیا جائے تو سمجھ آنے لگ جاتی ہے بات لیکن جب کھول کر بیان نہ کیا جائے تو میخفی حالتیں رہتی ہیں۔انسان سمجھتا ہے یہ تو بڑی اچھی تنقید کر رہا ہے، بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔فلاں عہدہ دار ہے، فلاں امیر ہے، فلاں قائد خدام الاحمدیہ ہے اور اُس سے یہ حرکت ہوئی ہے، اس کا حق ہے ساری دنیا میں اُس کو مشتہر کرے۔حالانکہ یہ نہیں سوچتا سننے والا کہ اگر دل میں نیکی ہو، اگر دل میں پیار ہو اور اپنے بھائی کی محبت ہو تو اُس کی برائی سے خوش کیسے ہوسکتا ہے کوئی ، اُس کی برائی کا ڈھنڈورا کیسے پیٹ سکتا ہے۔اپنے بچوں سے کوئی حرکت ہو تو لوگ پر دے ڈالا کرتے ہیں کہ اُن کے ڈھنڈورا پیٹا کرتے ہیں؟ اپنے بچوں میں سے کسی کا کوئی نقص ظاہر ہو جائے تو انسان چھپانے کی کوشش کرتا ہے ، انسان اُن کی تلافی مافات کی کوشش کرتا ہے، چاہے معافی مانگنی پڑے، چاہے جھکنا پڑے کسی کے سامنے اور مخفی طور پر چھپ کے اپنے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب حسد ہو تو پھر بالکل برعکس رد عمل ہوتا ہے۔تو اس قسم کے ناقدین گود و ہرا نقصان کا موجب بن جاتے ہیں جماعت کے لئے۔