خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد۵ 318 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء ہو کہ خود بھی ڈوبے اور غیر کو بھی لے ڈوبے تو اگر حسد کا جذبہ پیچھے ہے تو بعض دفعہ یہ جذبہ بھی حسد دکھاتا ہے کہ غیر کے ساتھ اپنی ہلاکت بھی انسان مول لے لیتا ہے۔چنانچہ اردو میں ایک محاورہ ہے شریکے کا دانہ سرد کھتے بھی کھانا کہ شریکے کو نقصان پہنچ جائے ، اس کا رزق کم ہو جائے اس لئے اپنے آپ کو ہضم نہ بھی ہو ، موافق نہ بھی آئے تو شریکے کا کھانا اس غرض سے ضرور کھانا ہے کہ وہ کم ہو جائے۔تو قرآن کریم نے لفظ حسد کے تابع اس مضمون کو کھول دیا کہ حسد آنکھوں کو اندھا کر دیتا ہے حسدا اپنی بھلائی کی تمیز اٹھا دیتا ہے اور جب حسد غالب آجائے تو حسود کی آنکھ بنگ ہو جاتی ہے اور وہ اپنی بھلائی بھی نہیں دیکھ سکتے۔اس لئے حق دیکھنے کے باوجود بھی پھر وہ اپنی ضد پر قائم ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے ضرور اس حق کو نقصان پہنچا کے چھوڑنا ہے۔دوسرے معنی اس کے یہ ہوں گے من بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ اس وقت اس وجہ سے وہ ارتداد کا فتنہ شروع کرتے ہیں کہ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ وہ جان چکے ہوتے ہیں کہ اب اگر ہم نے زبر دستی ان کو نہ روکا تو یہ ضرور غالب آجائیں گے۔حق کھل گیا سے معنی ہیں حق کا غلبہ کھل گیا۔صاف نظر آنے لگ جاتا ہے روز روشن کی طرح کہ اب تو یہ آئے کہ آئے ، اب کوئی دنیا کی طاقت ان کے اس غلبہ کی حرکت کو روک نہیں سکتی سوائے اس کے کہ تلوار کا جبر اختیار کیا جائے ،حکومتوں کا جبر اختیار کیا جائے ،ضد اختیار کی جائے۔ہر قسم کی دشمنی کے ذریعے فتنہ اور فساد کے ذریعے ان کو روکنے کی کوشش کی جائے۔جہاں تک دلائل کا تعلق ہے جہاں تک منطق کا تعلق ہے جہاں تک کتابی اسناد کا تعلق ہے یہ لوگ تو بہر حال غالب آنے والے لوگ ہیں۔تو حق سے مراد یہاں یہ حق بھی ہوسکتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں یہ حق ان پر کھل جاتا ہے جب کہ اب یہ لوگ بہر حال غالب آ کر رہیں گے۔اس وقت پھر وہ حسد کے ذریعے تمام مخالفانہ کوشش شروع کر دیتے ہیں جن کی تان ارتداد کی شش پر ٹوٹتی ہے۔پس جہاں فتنہ ارتداد کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے وہاں ہر جگہ حسد کا ذکر نہیں۔اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ حسد کا ذکر نہیں ہے حالانکہ یہاں بتا دیا کہ حسد اس کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے مخفی ہوتا ہے۔جہاں غیظ و غضب کا ذکر ملتا ہے، جہاں عناد کا ذکر ملتا ہے، جہاں تعدی کا ذکر ملتا ہے وہاں ہر جگہ حسد کا ذکر نہیں لیکن حسد اس کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔