خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد۵ 317 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء اور اس جذبے میں محبت اور فدائیت کارفرما ہوتے ہیں۔اس جذبے میں ان کی بہبودز ور مارتی ہے اور دلوں کو مجبور کرتی ہے کہ دکھ اٹھا کر بھی غیروں کو اپنی طرف کھینچ کے لاؤ۔چنانچہ دونوں کے ہتھیار بدل جاتے ہیں۔حسد بھی گو پوشیدہ ہے اور محبت بھی دل میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن یہ دونوں جب ظاہر ہوتے ہیں تو اپنے ہتھیاروں کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔حسد کی ذریعے جو تبلیغ ہے اس میں ظلم اور ستم اور جبر اور تلوار یہ نمایاں ہتھیار ہیں۔حسد تو دل میں چھپا ہوا ہے وہ نظر نہیں آرہا ہوتا۔لیکن زور کے ساتھ ، آگ لگانے کی دھمکی کے ساتھ ، گھروں سے نکال دینے کی دھمکی کے ساتھ قتل کی دھمکی کے ساتھ ، جو تبلیغ کی جاتی ہے قرآن کریم کی رو سے وہ حسد کے نتیجے میں ہے اور یہ فتنہ ارتداداللہ کے نزد یک ایک مردو دفتنہ ہے۔اس کے برعکس جب مومن تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ وہ محبت کی بناء پر کرتے ہیں اس لئے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: ۲۵۷) کا اطلاق ان کی ہر چیز میں ان کی ہر حرکت ، ان کی ہر سکون میں ملتا ہے۔وہ دکھ دے کر کسی کو مومن نہیں بنا رہے ہوتے بلکہ دکھ اٹھا کر مومن بنارہے ہوتے ہیں۔وہ دوسروں کی جانیں لے کر ان کو تبلیغ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنی جانیں پیش کر کے تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔کتنا زمین آسمان کا فرق ہے، کتنی دو مختلف متقابل راہیں ہیں ایک دوسرے کے۔ایک کا دوسرے کے ساتھ اشتباہ کا کوئی سوال ہی باقی نہیں چھوڑا خدا تعالیٰ نے۔ایسی عظیم کتاب ہے چھوٹے چھوٹے باریک اشاروں میں بڑے بڑے دقیق مضمون کھولتی چلی جاتی ہے۔پھر فرمایا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ یہ تو بہت بڑا اعلان ہے اور بہت بڑا دعویٰ ہے کہ ان پر حق خوب واضح ہو چکا تھا ، تبیّن ہو چکا تھا حق۔پھر بھی اس کے باوجود انہوں نے کیوں اپنی ہلاکت کی راہ اختیار کی ؟ یہ سوال اُٹھتا ہے۔قرآن کریم فرمارہا ہے انہوں نے یہ طریق مخالفت کا اس کے باوجود اختیار کیا کہ ان پر حق ظاہر ہو چکا تھا اور بظاہر یہ عجیب بات لگتی ہے کہ کسی پر حق ظاہر ہو گیا ہو اور پھر اس کے باوجود حق کی مخالفت کرے اور اس کے باوجود اپنے لئے ہلاکت کی راہ اختیار کرے۔حسد اس مسئلہ کی کنجی ہے۔جب آپ حسد پر غور کرتے ہیں تو یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔جب کسی دوسرے سے حسد شروع ہو جائے تو وہاں انتقام اور بغض کا جذ بہ اتنا غالب آجاتا ہے کہ اپنا نقصان کر کے بھی دوسرے کو نقصان پہنچایا جائے تو انسان پہچانے کی کوشش کرتا ہے۔اگر ممکن