خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد۵ 316 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء مخالفتیں شروع کر دیتا ہے ، دوسرے کا برا چاہتا ہے۔سب کے حسدان کے اندر ہوتے ہیں۔تو حَسَدًا مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ میں اس بات پر زور کیوں دیا گیا۔زور اس وجہ سے دیا گیا کہ بعض دفعہ حسد کسی ایسی دشمنی کے نتیجے میں جڑ پکڑتا ہے جس دشمنی کو پیدا کرنے میں فریق ثانی ذمہ دار ہوتا ہے اور جب ایک دفعہ دشمنی پیدا ہو جائے تو پھر اس کے نتیجے میں حسد اس پہلی دشمنی کے جواب میں پیدا ہوتا ہے۔جب دشمنی چلی پڑتی ہے تو دونوں طرف ضد اور تعصب اورحسد کے معاملات چلتے ہیں۔مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ کہہ کر مومنوں کی معصومیت کا اظہار فرمایا گیا ہے۔ان کا کلیاً بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔فرمایا کوئی بھی ایسی حرکت مومنوں کی طرف سے نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں دشمن ان پر حسد شروع کرے اور نہ مومن ان سے حسد کرتے ہیں محض یک طرفہ معاملہ ہے۔نہ وجہ جواز ہے نہ مومنوں کی یہ صفت ہے کہ وہ بھی حسد کریں اور یہ حسد یک طرفہ رہتا ہے، مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ایک ہی طرف سے چلتا ہے۔اس میں ایک اور پہلو بھی قابل غور یہ ہے کہ مومن اور کافر کی تبلیغ کا فرق دکھا دیا گیا۔جب کا فرمومن کو تبلیغ کرتا ہے اور کہتا ہے ہماری ملت میں لوٹ آؤ تو اس کی محبت کی وجہ سے نہیں کرتا اس کو بچانے کی خاطر نہیں کرتا بلکہ حسد اور بغض کی بناء پر کرتا ہے اور یہ جو فتنہ ارتداد کہ کر بڑا عظیم الشان ایک فساد کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ مرتدین کو واپس لاؤ نہیں تو قتل کرو نہیں تو گھروں سے نکالو، ان سب کی بناء حسد ہے۔کوئی محبت یا فلاح و بہبود ہرگز اس کی بناء نہیں ہے، کسی کو فتنے اور ہلاکت سے بچانے کی خواہش اس کی بنا نہیں ہے۔ایک جلن ہے کہ یہ لوگ پھیل رہے ہیں، یہ لوگ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔چونکہ ہم مثبت ذرائع سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اس دوڑ میں ان سے آگے نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو زبر دستی کم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ان کو تلوار کے زور سے مرتذ کرو اور ان کو کم کرتے چلے جاؤ۔اگر ہم نہیں بڑھ سکتے تو یہ کم ہو سکتے ہیں۔یہ من عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ نے بتایا کہ محض ان کی تبلیغ کے پیچھے یہ جذبے کار فرما ہوتے ہیں۔جہاں تک مومن کا تعلق ہے مومن کو اس بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ دشمن پر خدا کے کوئی فضل نازل ہورہے ہیں یا نہیں ہور ہے ، وہ بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے۔مومن کو تو صرف ایک لگن ہوتی ہے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ بنی نوع انسان کو وہ ظلم اور ہلاکت کی راہ سے بچا سکتا ہے بچالے۔جتنوں کو خدا کی راہ پر بھینچ کے لا سکتا ہے ان کو کھینچ لائے