خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد۵ 315 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء أمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا أَنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ کہ جب اللہ سوسائٹی میں سے کسی پر فضل فرماتا ہے یا چند بندوں کو یا چند قوموں کو یا چند نسلوں کو اپنے فضل کے لئے چن لیتا ہے تو لوگ اس بنا پر ان سے حسد شروع کر دیتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنے فضل کے لئے چن لیا ہے۔لیکن ان کا یہ حسد اُن لوگوں کی ترقی پر ذرہ بھر اثر انداز نہیں ہوتا جن کو خدا نے اپنے فضل کے لئے چن لیا ہو۔فرمایا: فَقَدْ أَتَيْنَا آلَ إِبْرهِيْمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَأَتَيْنَهُمْ مُّلْكًا عَظِيمًا ان حاسدوں کے باوجود اسکے کہ لوگ جلتے رہے اس آگ میں کہ کیوں ابراہیم پر ایسے فضل نازل ہوئے ، کیوں اس کی اولاد پر اتنے فضل نازل ہوئے ، کیوں دنیا میں ترقی کرتے چلے گئے۔فَقَدْ أَتَيْنَا آلَ إِبْرهِيْمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ہم نے ابراہیم ہی پر نہیں اس کی آل پر بھی فضل نازل فرمائے۔ان کو کتاب دی ان کو حکمت عطا فرمائی وَأَتَيْنَهُمْ مُّلْكًا عَظِيمًا اور انہیں عظیم روحانی سلطنت عطا فرمائی۔ملک عظیم میں قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق اول درجہ پر روحانی سلطنت مراد ہوتی ہے۔دوسری جگہ قرآن کریم مومنوں کی جماعت سے بالعموم کفار کے حسد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتُبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں یا بہت بڑی تعداد ان کی یہ چاہتی ہے کہ کاش تم مرتد ہو کر ایمان سے ہٹ کر کفر کی طرف لوٹ جاؤ ایمان حاصل کرنے کے بعد پھر کفار میں شامل ہو جاؤ۔ایسا کیوں ہے؟ فرمایا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِم یہ ان کے اندر جو حسد پایا جاتا ہے اس کی بناء پر ہے۔یہاں اور باتوں کے علاوہ یہ امر قابل غور ہے کہ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ حسد کا ذکر کافی کیوں نہیں تھا؟ اپنے اندر کے حسد ہی سے انسان بدیاں کرتا ہے،