خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد ۵ 314 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء عملاً سارے قرآن کریم کا خلاصہ ہے اور جن میں آخری زمانے کے نہایت ہی ہولناک عالمگیر فتنوں کا ذکر ہے اور ان کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے، ان میں جو تین ہتھیار شیطان حق کے مقابل پر اختیار کرے گا ان میں سے ایک حسد بھی بیان فرمایا گیا ہے: وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَ مِنْ شَرِّ النَّفْتُتِ فِي الْعُقَدِ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَةً ( الفلق : ۶۴ ) تو جہاں تک اہمیت کا تعلق ہے حسد کو غیر معمولی اہمت دی گئی ہے کہ اس نقطہ نگاہ سے آخری زمانہ میں جو حق و باطل کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہونے والی ہے ان میں شیطان ان تین ہتھیاروں سے لیس ہو کر تمہارے سامنے آئے گا۔ در اصل صرف چند مرتبہ حسد کو ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ حسد خود ایک پوشیدہ بیماری ہے اور اس کا اظہار مختلف دوسری بیماریوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ جن دوسری بیماریوں کی صورت میں ا حسد جلوہ دکھاتا ہے اُن کا ذکر بکثرت قرآن کریم میں موجود ہے اور حسد چونکہ خود مخفی رہتا ہے اس لئے حسد کو بھی بالعموم مخفی رکھا گیا ۔ چنانچہ بعض حسد کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ حسد کے نتیجے میں ظلم اور تعدی پیدا ہوتے ہیں۔ حسد کے نتیجے میں اور بہت سی ایسی معاشرتی برائیاں وجود میں آتی ہیں جن کی تہہ میں حسد کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے لیکن بالعموم دکھائی نہیں دیتا بلکہ بعض دفعہ ایسے مخفی طور پر کام کرتا ہے کہ خود حاسد کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کیوں یہ حرکت کر رہا ہوں اور بسا اوقات وہ نیکی کے لباس میں وہ حرکت کرتا ہے حالانکہ دراصل اس کی پشت پر حسد زور مارتا ہے،حسد انگیخت کرتا ہے،حسدا سے اس بدی پر ترغیب دلا رہا ہوتا ہے۔ حسد کا جو حملہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے وہ دو طرح پر ہے۔ ایک اندرونی طور پر یعنی مسلمانوں کے معاشرہ پر خفیہ طور پر حسد حملہ کرتا ہے اور اکثر برائیاں جو معاشرے کی ہیں ان میں اگر ساری نہیں تو بہت سی حسد کے اندر جڑیں رکھتی ہیں اور حسد کے ساتھ پیوستہ ہوتی ہیں اور بیرونی طور پر بھی مومنوں کی جماعت پر حسد حملہ کرتا ہے۔ بیرونی حملے کی نشاندہی جہاں فرمائی گئی ان میں سے یہ دو آیات ہیں۔ جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔ فرمایا: