خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد۵ 310 خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۶ء دیتے ہیں اور ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے اور ان کی حالت وہی رہتی ہے بے چاروں کی۔تُبَدَّلُ الْاَرْضُ وَالسَّمَوت کا کوئی نظارہ دنیا نہیں دیکھتی پھر جو معنی خیز انقلابات کا ایک لازمہ ہونا چاہئے۔یہ ہے قرآن کریم کا اعلان کہ اگر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں، اگر خدا کا انتقام ظاہر ہو اور پھر ان کے زمین آسمان نہ بدلائے جائیں تو وہ الہی انقلاب نہیں ہے، وہ کوئی اور ذلیل چیز ہے جس کا جو بھی نام رکھ اور کھ لولیکن اسے الہی انقلاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔حالت یہ ہے کہ پھر پہلے سے بھی زیادہ بدتر حالت میں یہ بے چارے لوٹ جاتے ہیں۔قربانیاں دیتے ہیں ، اپنا خون بہاتے ہیں گلیوں میں عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا۔اسی طرح مزدور ترستا ہے اپنے حقوق کے لئے جس طرح پہلے ترسا کرتا تھا۔اسی طرح حکومت کا نوکر ہو یا غیر نوکر ہو، آزاد تجارت کرنے والا ہو یا زمیندار ہو، سب کی حالت پہلے سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔سارا معاشرہ دکھوں سے بھر گیا ہے۔کسی شہر کے Slums میں آپ جا کر دیکھیں اب تو اکثر آبادیاں شہروں کی Slums بن چکی ہیں۔سڑکیں اکھڑی ہوئی ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔نہروں میں پانی سوکھ گئے ہیں۔جو تقسیم ہے اس میں ظلم شامل ہو گیا ہے۔انصاف کی تقسیم کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہا۔سڑکوں کے بجائے گھر بنے لگ جاتے ہیں۔گھروں کی بجائے زمینیں خریدی جانے لگتی ہیں۔یعنی وہ ادارے جنہوں نے حکومتوں کے گھر بنانے ہیں ان کی زمینیں بن رہیں گھروں کی بجائے۔وہ ادارے جنہوں نے سڑکیں بنانی ہیں سڑکوں کی بجائے ان کے اپنے گھر بن رہے ہیں۔کوئی ایک بھی کل سیدھی نہیں اور دن بدن زیادہ سے زیادہ بگڑتی چلی جارہی ہے۔اتنے دکھی ہیں لوگ، اس قدر مصیبتوں میں مبتلا ہیں کہ روز مرہ کی زندگی ایک عذاب بن گئی ہے اور کوئی بیمار ہو تو پوچھنے والا کوئی نہیں۔کوئی مرجائے تو کوئی ہمدردی کرنے والا نہیں ہے۔چوری ہوڈا کہ ہو سب اپنے حال میں مگن ہیں۔یہاں تک کہ غربت جو ہے وہ پھر کفر کی راہ اختیار کرتی ہے، بے حیائی بن کر بازاروں میں بکنے لگتی ہے۔پاکستان کے کسی ایک شہر کے غریب علاقے میں آپ جا کے دیکھیں تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنا دکھی ملک ہے اور جب انقلاب آتا ہے گالیوں اور شور اور فساد اور ڈنڈے کے ذریعہ آتا ہے اور بعد میں پہلے سے زیادہ دکھ چھوڑ جاتا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کے اوپر بھاری ذمہ داری ہے۔قرآن کریم کا پیغام آپ کو یہ ہے