خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 306

خطبات طاہر جلد۵ 306 خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۶ء ان دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔تو عزیز کا غلبہ ہوگا جو ذو انتقام ہے یعنی انتقام لینے والا خدا غالب آئے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو پہلے مخاطب تھے دشمن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔باوجود اس کے کہ ان کو بار بار متنبہ کیا گیا ، با وجود اس کے کہ وہ لوگ وارث بنے۔ان مکانوں میں رہے، اُن محلوں میں ٹھہرے جہاں اس سے پہلے بعض لوگوں کو سزا مل چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے پھر کھول کھول کر مثالیں بھی ان کے سامنے رکھ دیں۔ذوانتقام کے غلبہ سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ ان چیزوں سے عبرت حاصل نہیں کریں گے، فائدہ نہیں اٹھا ئیں گے اور لازما اللہ تعالیٰ ان کے ظلموں اور انکی زیادتیوں کا انتقام لے گا۔آج کل جو پاکستان میں حالات ظاہر ہو رہے ہیں وہ انہی پیش خبریوں کے مطابق ظاہر ہورہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے انتقام کی چکی چل پڑی ہے اور بعض پہلوؤں سے اس قدر شدت کے ساتھ چل رہی ہے کہ اگر ذرا بھی کسی میں حیا اور غیرت ہو اور معمولی سی بھی اس کے اندر فراست ہو تو وہ خوب اچھی طرح محسوس کر سکتا ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔یہ وہ حکومت ہے موجودہ جس نے اپنے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہانت کی انتہاء کر دی۔کبھی پاکستان کی تاریخ میں کسی ملاں کے گروہ نے یا کسی حکومت کے کارندوں کے گروہ نے اس قدر ظلم اور زیادتی سے کام نہیں لیا تھا جس طرح موجودہ حکومت نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر گندا چھالنے میں بے حیائی اور زیادتی سے کام لیا اور اس وقت جو پاکستان کی گلیوں اور ہر شہر کی ہر گلی میں ہو رہا ہے وہ اتنی عبرت ناک تصویر ہے، اتنا خطرناک گندا چھالا جا رہا ہے موجودہ صدر کے اوپر اور یہ صدر جو سابق ڈکٹیٹر ہیں جو ذمہ دار ہیں اس سارے ظلم کے کہ لکھنے والے اخباروں میں بھی لکھ رہے ہیں اور رپورٹیں دوسرے ذرائع سے بھی پہنچ رہی ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی شخص واحد کو اتنی گندی گالیاں اس کثرت اور شدت کے ساتھ اور جوش اور جذ بے کے ساتھ نہیں دی گئیں۔اتنے بڑے مجھے کبھی اکٹھے نہیں ہوئے ان شہروں میں اور ان سب مجمعوں میں لکھوکھہا انسانوں نے جن میں بعض دفعہ پندرہ ، پندرہ لاکھ انسان شامل ہوتے تھے بیک آواز شدید گندی زبان استعمال کی ہے موجودہ صدر کے خلاف اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ہر گلی میں ہو رہا ہے، ہر قصبے میں ہورہا ہے۔طوفان ہے ایک نفرت کا جو اٹھ کھڑا ہوا ہے۔لعنتوں کی ایک بوچھاڑ ہے جو بارش