خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 25

خطبات طاہر جلد ۵ 25 خطبه جمعه ۳ جنوری ۱۹۸۶ء یہاں تک کہ یہ مضمون اتنا عظیم الشان ہے کہ خدا کی صفت غفران میں میں نے بیان کیا تھا کہ ایک شخص جو ساری عمر گناہ کرتا رہا وہ بالآخر ایک ایسی بستی کی طرف روانہ ہوا جہاں اس کی جانے کی نیت صرف یہ تھی کہ نیک لوگ ہیں ان کی صحبت میں بیٹھ کر میرے گناہ جھڑ جائیں گے اور مجھے نیکی کی توفیق ملے گی۔ ابھی آدھا سفر طے کیا تھا تقریباً کہ اس کو رستے میں موت آگئی۔ آنحضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ اس حالت میں اس نے جان دی کہ گھٹنوں اور کہنیوں کے بل گھسٹ رہا تھا کہ کاش مرتے وقت میں اس شہر کے اور قریب ہو چکا ہوں ۔ ایسی حالت میں اس نے جان دی اور فرشتوں نے خدا کے حضور یہ سوال اٹھا دیا کہ اس کو جہنم میں پھینکا جائے یا جنت میں پھینکا جائے ساری عمر یہ گناہ کرتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو! آخری حرکت اس کی کیا تھی ۔ یہ تو نیک بننے کے لئے ایک سفر اختیار کر چکا تھا فَفِرُّوا إِلَى الله کی آیت کے تابع آچکا تھا۔ اس کی فرماروائی میں داخل ہو چکا تھا کیسے تم اس کو جہنم میں ڈالو گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان جھگڑنے والے فرشتوں کو جو عذاب اور رحمت کے فرشتے آپس میں تفسیری رنگ میں جھگڑا کر رہے تھے کہ اچھا تم جھگڑا اس طرح طے کر لو کہ فاصلہ نا پو۔ اگر اس بری بستی سے وہ قریب تر مرا ہے۔ جہاں گندے لوگ تھے جہاں ڈالنا۔ صلى الله ہیں وہ جرائم کیا کرتا تھا تو بے شک اس کو جہنم میں ڈال دو لیکن اگر وہ ان نیکوں کی بستی کے ہے جن نیکوں کی بستی کی طرف وہ ہجرت اختیار کر رہا تھا تو پھر جہنم اس پر حرام ہے اس کو جنت میں ۔ اور آنحضرت ﷺ بڑے ہی پیار کے ساتھ اپنے رب کی حمد کے گیت اس طرح گانے فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے وہ فاصلہ نا پنا شروع کیا تو بدی والی زمین کو خدا نے حکم دیا کہ وہ پھیلنا شروع ہو اور اس کا فاصلہ بڑھنے لگے اور نیکی والی بستی کی طرف کی زمین کو حکم دیا کہ وہ سکڑ نے لگے اور خدا کے اس بندہ کو اپنے قریب ترکرلے (مسلم کتاب التوبه حدیث نمبر : ۴۹۶۸)۔ پس رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف: ۱۵۷) کا ایک عجیب منظر سامنے آیا کہ وہ شخص جو ساری عمر بدیوں میں مبتلا تھا اس کا انجام خدا تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے تابع اسی وجہ سے ہوا کہ و فَفِرُّوا إِلَی اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہو چکا تھا ۔ پر فَفِرُّوا إِلَى الله کا جہاں یہ مطلب ہے کہ جلدی کرو تمہاری زندگی کا اعتبار کوئی نہیں۔ خدا کی کس کس صفت کو اپناؤ گے اور کس حد تک تمہیں ان صفات میں سفر کرنے اور سیر کرنے کی