خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد۵ 300 خطبه جمعه ۱۸ر اپریل ۱۹۸۶ء کے عالم کو اپنی سچائی کے قدموں کے نیچے دیکھتا ہوں۔اتنا بڑا قدم صدق عطا فرمایا ہے خدا نے مجھے کہ دور دراز تک آنے والے لوگ ان قدموں کے نیچے سے برکت پائیں گے ان سے سچائی حاصل کریں گے۔تو نہ صرف یہ کہ قدم صدق کو حاصل کریں آپ سے فیض پانے کے لئے تو آج کی دنیا ہی نہیں آئندہ قیامت تک آنے والی دنیا میں منتظر بیٹھی ہیں۔آپ کے قدم بڑے ہونگے تو دنیا کے نصیب بڑے ہوں گے اور آپ کو قدم بڑے نہیں مل سکتے جب تک خدا کا وہ نور آپ کے اندر کامل نہ ہو جائے جس کے لئے اہل فراست بندے ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا۔اے خدا! نور تو بہت تو نے دیا آگے بھی نور ہے اور پیچھے بھی۔دائیں بھی اور بائیں بھی۔لیکن ہمارے دل کو تسلی نہیں ہمارا ظرف اور بھی بڑا معلوم ہوتا ہے ، ہمارے نور کو کامل کر دے جس حد تک ہماری استطاعت ہے اُس حد تک ہمارے نور کو بڑھاتا چلا جا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج نماز ہائے جنازہ غائب بھی ہے اور نماز جنازہ حاضر بھی۔باہراگر موسم اچھا ہے تو باہر نماز ہوگی پھر۔باہر موسم کیسا ہے، ٹھیک ہے۔ان کو کہیں کہ نماز کے معابعد جنازہ لے آئیں وہ سامنے رکھ لیں تو دونوں اکٹھی نماز جنازہ حاضر بھی ہو جائے گی اور نماز جنازہ غائب بھی ہو جائے گی۔جمعہ کے معاً بعد ہوگی اس لئے دوست سنتیں بعد میں پڑھیں تا نماز کے فوراًبعد نماز جنازہ سے فارغ ہو جائیں لیکن میرا خیال ہے کہ آسانی اس میں ہے کہ پہلے سنتیں پڑھ لیتے ہیں پھر بعد میں جا کر نماز جنازہ پڑھ لیں گے۔اس لئے سنتیں پڑھتے ہی نماز جمعہ کے بعد پھر باہر تشریف لے جائیں۔یہ جو نماز جنازہ حاضر ہے یہ مکرم تاج دین صاحب جنہوں نے بڑے اخلاص سے اپنی خدمتوں کو اسلام آباد کے لئے وقف کر رکھا ہے اُن کے والد صاحب مکرم صدر دین صاحب کا نماز جنازہ ہے اور جو نماز جنازہ ہائے غائب ہیں ، وہ ہیں۔ا۔مکرمہ تمامہ صاحبہ اہلیہ مکرم ابوصالح صاحب فلسطین ۲۔مکرم منیر الحق صاحب را مه ابن مکرم عبدالحق صاحب رامہ سابق ناظر بیت المال۔یہ جوانی کی عمر ہی میں وفات پاگئے ہیں اور وہ یہاں ہماری جماعت کے ایک مخلص کارکن چوہدری رشید احمد صاحب کی اہلیہ ناصرہ بیگم کے بہنوئی تھے۔۳۔مکرم مولا نا محمد سلیم صاحب فاضل سابق مجاہد بلاد عر بیہ کے متعلق بھی قادیان سے اطلاع ملی ہے