خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد۵ 296 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء رکھنے والی تھیں اور کس حد تک بھیگی آنکھیں تھیں۔ہر روز عام زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں آنکھوں کا بھینگا پن بالکل صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ایک خاندان ہے، اُس کی بچی کے اوپر ظلم ہورہے ہیں یعنی اس کے نزدیک اپنی بچی کے متعلق جو تو قعات رکھتا ہے اُس کو ایک خاص آنکھ عطا ہوئی ہے اس کے لئے اور وہ کہتا ہے کہ یہ بات بھی اُس پر ظلم ہے اور وہ بات بھی اُس پہ ظلم ہے، فلاں بات بھی اُس پہ ظلم ہے اُس کے بچے چھڑانا اُس پر ظلم ہے، اُس کے ساتھ یہ سلوک کرنا اس پہ ظلم ہے۔لیکن جب دوسرے کی بچی کا معاملہ ہوتا ہے اور اپنے بیٹے کا معاملہ ہو تو یہ آنکھ بالکل بدل جاتی ہے اور کہتے ہیں ہمارے بیٹے پر یہ ظلم ہوا ہے بیٹے کا یہ حق ہے بچے اور بیٹے کا حق یہ ہے اور بیٹے کا حق وہ ہے اور دیکھو! وہ لڑکی کیسی ظالم اور شیطان لڑکی ہے یہ کام کر گئی۔اب ان دونوں آنکھوں کو بیک وقت خدا کے نور کی آنکھیں کیسے قرار دیں کیونکہ اللہ کا نور تو بھینگا نور نہیں ہے۔اللہ کا نور تو ایک حقیقت کو ایک ہی حقیقت کے طور پر دیکھتا ہے۔پس یہ قدم ہیں۔یہی قرآن کریم میں مضمون ہیں اُن کو قَدَمَ صِدْقٍ عطا ہوتا ہے اور قَدَمَ صِدْقٍ ہمیشہ سیدھی راہ پر پڑتا ہے، غلط راہ پر نہیں پڑتا کہ کبھی گند پر پڑ جائے کبھی صحیح رستے پر پڑ جائے۔جہاں وہ گند پر پڑے گا وہ قدم صدق رہے گا نہیں۔تو دو مختلف رستے ہو گئے۔دعویٰ یہ ہے کہ ہم ایک ہی نور سے دیکھنے والے ہیں۔دعویٰ یہ ہے کہ ہماری آنکھیں حقائق کو اُسی طرح دیکھتی ہیں جیسے خدا ہم سے توقع رکھتا ہے اور جب اُن آنکھوں سے دیکھ کر راستے اختیار کرتے ہیں تو ایک مشرق کی طرف چل رہا ہوتا ہے اور ایک مغرب کی کی طرف چل رہا ہوتا ہے۔دونوں کے قدم کے رخ ، اُن کی نہج اُن کی طرز بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔تو کون کہتا ہے کہ لطیف معاملات میں نور دکھائی نہیں دے سکتا۔قرآن کریم ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ لطیف در لطیف در لطیف معاملات میں بھی بتا تا ہے آپ کو کہ کیسے دیکھو ان کو۔قدموں کے ذریعے دیکھو، وہ تو تمہاری پہنچ سے باہر نہیں وہ تو کافروں کی بھی پہنچ میں تھے اس لئے اُن کی شناخت کے گر سیکھو تو تمہیں خدا تعالیٰ کے نور کی شناخت کے گر معلوم ہو جائیں گے۔اسی طرح تنقید ہے۔مختلف خطوط مجھے ملتے ہیں جن میں کثرت سے تنقید پائی جاتی ہے اور ہر تنقید کرنے والا یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ قَدَمَ صِدْقٍ کے ساتھ معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے بیچ رستے