خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد۵ 294 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء ہے وہاں اسے احساس ہو جانا چاہئے کہ یہاں میرے نور نے میری رہنمائی کی ہے اور ایک ہی دن میں سارا دن کے حالات پر اگر انسان اپنی زندگی میں غور کرے تو بہت کھل کر نور میں تو کوئی اشتباہ کی بات ہی نہیں ہونی چاہئے۔بہت کھل کر اسے اپنے نور کے حالات نظر آنے شروع ہو جائیں گے واضح طور پر وہ دیکھ لے گا کہ کہاں کہاں میرے قدم سچائی پر پڑ رہے تھے، کہاں کہاں کذب پر پڑرہے تھے۔کتنا نور بصیرت میرے خدا کی طرف سے عطا ہوا اور کتنا نہیں ہوا۔یہ تو خیر عام اور سادہ نظر آنے والی باتیں ہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ نور کے معاملات ہیں جو بہت سے صاحب فراست لوگوں پر بھی مہم ہو جاتے ہیں اور جہاں سے پھر اگلے قدم شروع ہوتے ہیں۔ایک تو روز مرہ کا ابتدائی نور ہے جو صالح کی ابتدائی زندگی سے تعلق رکھنے والا ہے۔ایک نور کے بار یک در باریک پہلو ہیں جو اُس کو مختلف ترقیات کے مقام عطا ہوتے چلے جاتے ہیں یا جن کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان مختلف ترقیات سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔لیکن ان کی علامتیں بھی قدموں میں ملتی ہیں اور ہمیشہ ہمارے ہاتھوں کی پہنچ میں رہتی ہیں۔ہم معلوم کر سکتے ہیں اگر چاہیں تو فراست کے ساتھ ہم ان کے نقوش پاسے معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ نور کی لطافتیں کیا تھیں اور کس مرتبے پر کوئی انسان کھڑا ہوتا ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قَدَمَ صِدقي فرما کر اس مضمون کو واضح فرما دیا ہے۔قدم تو ہمیشہ زمین کے ساتھ چمٹتے ہیں اور لا زمازمین پر پڑتے ہیں۔اس لئے نور کا جو دوسرا کنارا ہے اُس کا اہل دنیا سے گہراتعلق رہتا ہے۔اہل دنیا یہ نہیں کہہ سکتے خدا تعالیٰ کو کہ اے اللہ ! ہم کیسے اس شخص کے نور کو پہچانتے کیونکہ نور تو ایک آسمانی چیز ہے۔ہم زمینی لوگ تھے ، ہمارے پاس ذریعہ کوئی نہیں تھا کوئی استعداد نہیں تھی، کہ ہم یہ معلوم کر سکتے کہ تیرا نور کس کو نصیب ہوا ہے۔لیکن قدم جونور کا دوسرا کنارا ہے وہ تو ہمیشہ زمین پر چلتے ہیں۔اس لئے اہل زمین اُن قدموں کے سلوک سے پہچانتے ہیں کہ یہ کیسے قدم ہیں۔اگر ایسے لوگوں کے معاملات اہل دنیا سے مختلف ہوں گے تو وہ پہچان لیں گے کہ یہ خدا کے نور کے معاملات نہیں ہیں۔تب ہی تو وہ تعجب میں مبتلا ہوئے اہل عرب۔باوجود انتہائی دنیا دار ہونے کے باوجود اس کے کہ ان کے سوسائٹی کالب لباب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اُن کو ڈرا ؤ اور اُن کو بتاؤ کہ اگر تم ایمان کے ذریعے اپنے اندر تبدیلیاں نہ پیدا کر سکے تو لازماً ہلاک ہونے والے ہو ہلاکت کی ساری علامتیں بھی ظاہر ہو چکی