خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد۵ 24 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۸۶ء پیرا ہونے کے لئے چند قدم آپ ضرور اٹھالیں گے اس سمت میں۔ورنہ یہ آیت آپ روز سنتے رہیں گے یا پڑھتے رہیں گے یا درسوں میں اس پر غور کریں گے مگر حقیقی معنوں میں یہ آیت آپ کو کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔پس فَفِرُّوا اِلَی اللہ میں ایک جلدی کا پہلو پایا جاتا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ خدا کی باقی تمام صفات تو الگ رہیں اس کی ایک صفت کے سارے تقاضے پورا کرنا ہی بہت بڑا کام ہے۔تمہاری زندگیاں تھوڑی ہیں، تمہارا عرصہ حیات چھوٹا سا ہے، تم کیا کیا کرو گے اور کیا کیا اختیار کرو گے۔خدا کے فضل کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا مگر جلدی کرو۔افراتفری کی وجہ سے گھبراہٹ میں دوڑو اس کی طرف کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔اگر چہ تقاضے بالآخر سوفی صدی تو پورے ہو ہی نہیں ہو سکتے مگر جب آپ کسی بچے کو کہتے ہیں کہ دوڑو تو جب وہ دوڑ نا شروع کرتا ہے تو اس وقت عملاً وہ تقاضے پورے بھی کر دیتا ہے خواہ وہ اس حد تک نہ بھی دوڑ سکے جس حد تک اس کو دوڑنے کا حکم ملا ہے۔ایک کمزور بھی دوڑ پڑتا ہے، حکم پر اور ایک بوڑھا بھی دوڑ پڑتا ہے، ایک بیمار بھی دوڑ پڑتا ہے، ایک جوان بھی دوڑ پڑتا ہے ایک صحت مند بھی دوڑ پڑتا ہے۔حکم سن کر عمل شروع کر دینا ہی دراصل ایک معنی میں حکم کی تکمیل ہے۔اس کے بعد ضروری تو نہیں کہ سارے دوڑنے والے منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔جو رستے میں بھی گر جاتے ہیں وہ بھی حکم کو پورا کرنے والے ہیں۔اس لئے فَفِرُّوا اِلَی اللہ کا ایک یہ بھی معنی ہے اس میں جہاں ایک گھبراہٹ کا پہلو بھی ہے کہ اوہو دیر ہورہی ہے جلدی کرو۔وہاں ایک خوشخبری کا پہلو بھی مضمر ہے کہ تمہارا کام صرف دوڑنا ہے۔تم دوڑنا شروع کر دو تو میرے حکم کی تعمیل اسی وقت شروع ہو جائے گی۔آگے منزل تک پہنچنا یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں ہے ، وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: ۷۰) اس کے لئے ایک اور قانون جاری ہے کہ تم خدا کی راہ میں جہاد شروع کرو تم جدو جہد شروع کر دو لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا پھر ان رستوں پر جن پر تم دوڑو گے ان پر ہدایت تک پہنچانا، منزل مراد تک پہنچانا یہ پھر ہمارا کام ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس حالت میں بھی تمہیں دوڑتے ہوئے اٹھائیں گے وہی حالت تمہارے لئے فلاح اور کامیابی کی حالت قراردی جائے گی۔