خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 289

خطبات طاہر جلد۵ 289 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۶ء عقلیں ورطۂ حیرت میں ڈوب گئیں۔یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی نکلے اور اتنا مقدس ہو جائے ، اتنا عظیم الشان ہو جائے کہ خدا کے پیار کی نگاہیں اس پر پڑنے لگیں اور وحی کے لئے خدا تعالیٰ اسے مختص فرمالے، مصطفی بنالے مرتضے بنالے اور پھر وہ آگے سے یہ جادو دوسروں پر چلانے لگے۔یعنی اُسی گندی سوسائٹی سے گندے لوگوں کو ہاتھ میں لے اور ان کی کایا پلٹ دے اور وہ جن کا قدم ہمیشہ جھوٹ پر پڑا کرتا تھا، جن کی ہر روش جھوٹ کی روش ہوا کرتی تھی ، جن کا معاشرہ جھوٹا تھا، جن کی عدالتیں جھوٹی تھیں، جن کی زندگی کا ہر پہلوان کے اقتصادیات ، اُن کی بول چال ، ان کی سیاست ، ان کا رہن سہن ، ہر چیز جھوٹ پر مبنی تھی اس پر ہاتھ ڈالا محمد مصطفی ﷺ نے اس سوسائٹی کو ایسا تبدیل فرمایا کہ جو بھی اس پر ایمان لاتا ہے اس کا قدم خدا کے نزدیک قَدَمَ صِدْقٍ بن جاتا ہے۔عِنْدَ رَبِّهِمْ نے اُس صدق کے مضمون کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے یعنی سوسائٹی کی نظر میں اچھے نہیں وہ صرف۔اتنا گہرا صدق ہے، اتنا حقیقی صدق ہے کہ آسمان سے ان کا رب یہ گواہی دیتا ہے کہ اُن کا قدم صدق پر پڑ رہا ہے۔صدق کے سوا ان کا قدم کسی اور چیز پر نہیں پڑ سکتا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ قَدَمَ صِدْقٍ ہے کیا چیز اور کیسے نصیب ہوتا ہے؟ کن لوگوں کو نصیب ہوتا ہے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ نے یہاں کھول کر رکھ دیا کھول کر اس مضمون کو بیان فرما دیا کہ محمد مصطفیٰ یا کچی وحی پانے والوں کے غلاموں کو یہ قَدَمَ صِدْقٍ عطا ہوا کرتا ہے اور چونکہ یہ ایک ایسی حیرت انگیز تبدیلی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے یہ قَدَمَ صِدْقِ اس آقا کے صدق پر سب سے بڑا گواہ بن جاتا ہے جس کے قدموں کے طفیل ان سروں کو جو ان قدموں کو چھوتے تھے صرف ان کو ہی صدق عطا نہیں ہوا، ان کے قدموں کو بھی صدق عطا ہو گیا۔کتنا بلند مقام ظاہر ہوتا ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے محمد مصطفیٰ کو قَدَمَ صِدْقٍ عطا فرمایا ہے۔فرمایا ہم نے محمد مصطفیٰ کے غلاموں کو قَدَمَ صِدْقٍ عطا فرما دیا ہے۔پس سب سے بڑی گواہی آقا کی سچائی کے لئے اس کے غلاموں کے قدم ہیں جو ہمیشہ صدق پر پڑتے ہیں۔آج بھی بعینہ یہی صورت ہے۔آج بھی احمدیت جو مختلف دنیاؤں میں جادو جگا رہی ہے اور گندی سوسائٹیوں سے لوگ نکل کر آتے ہیں اور حیرت انگیز طور پران میں پاکیزگی کی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔یہی سب سے بڑی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی دلیل ہے اور