خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد۵ 281 خطبہ جمعہ ا ار اپریل ۱۹۸۶ء ہو گا وہ بے چاری بعض دفعہ اپنے ہیرے جواہر خود پھینک دیتی ہیں اور پتھر چن کر اور کوئلے اٹھا کر ان سے اپنے آپ کو سجانے لگتی ہیں۔تو دنیا والوں کو سجانے دیں اپنے آپ کو ان چیزوں سے آپ کو دنیا والوں سے کیا غرض ہے۔ان کو اگر پتھروں میں زینت نظر آتی ہے، اگر ان کو کوئلوں میں حسن دکھائی دیتا ہے تو کوئی زبردستی نہیں ہے جبراً ان کو آپ نہ اس سے روک سکتے ہیں نہ آپ کو یہ حق حاصل ہے۔ان کو لطف اٹھانے دیں ان باتوں کا لیکن یہ آپ کو حق نہیں ہے کہ خدا نے جو آپ کو ہیرے عطا فرمائے ہیں اور خدا نے جو جواہر نازل کئے ہیں آپ ان کو ان پتھروں اور ان کوئلوں سے تبدیل کر لیں۔اس لئے اپنے خزانوں کی حفاظت کریں، ان خزانوں کی حفاظت کریں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ہزاروں سال سے جو مدفون تھے اب خدا نے میرے ذریعہ ان خزانوں کو ظاہر کیا ہے اور میں ان کو بانٹ رہا ہوں۔کیسا پیارا نقشہ کھینچا ہے۔تری نصرا عجیبا و یخرون على المساجد ایسی عجیب نصر دیکھو گے تم کہ اس وقت خدا کے بندے اوندھے منہ سجدہ گاہوں پرگر پڑیں گے اور ساتھ یہ فرمایا، اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدر اختلاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے“ آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه : ۳۴۲) پس بادشاہوں کو دیکھئے ایک ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے کپڑوں میں تو لعل و جواہر سکے ہوئے نہیں تھے، وہ تو کمخواب کے کپڑے نہیں تھے، وہ تو ریشم کے کپڑے نہیں تھے، وہی سادہ کپڑے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زیب تن فرمایا کرتے تھے وہ کپڑے ویسے ہی تھے بلکہ مدت کے ساتھ وقت کے گزرنے کے ساتھ انہوں نے بوسیدہ ہی ہونا تھا لیکن فرمایا کہ جن کپڑوں میں یہ عبادت گزار بندہ رہتا ہے۔میرے نزدیک ان کی قیمت ہے ان کپڑوں میں میں برکت رکھوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔کتنی عظمت ہے نیکی اور تقویٰ کو اور اس کے مقابل پر بادشاہتوں کو کس طرح دست بستہ ان کے سامنے دکھایا گیا ہے۔فرماتے ہیں: