خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد۵ 267 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء چار پھلوں کے اندر ہی گلاس بھر گیا تھا۔اب پتا لگا ہے کہ پندرہ میں پھل ہو گئے ہیں اور بڑی مشکل سے گلاس بھرا ہے۔تو اس نے جواب دیا آپ جو بھی ہیں مگر میں آپ کو ایک بات بتاتی ہوں کہ ملک کی برکت بادشاہوں کی نیت سے ہوا کرتی ہے۔جب بادشاہوں کی نیتیں اچھی ہوں اپنی رعایا کے متعلق تو خدا تعالیٰ ملک کی فصلوں میں، اس کے پھلوں میں بہت برکت بخشتا ہے۔جب بادشاہوں کی نیتیں بگڑ جائیں تو ملک کی ہر چیز پر نحوست طاری ہو جاتی ہے۔اس کے پھل بھی بگڑ جاتے ہیں اس کی فصلیں بھی بگڑ جاتی ہیں یہ ایک ایسا گہر اسبق تھا اس بادشاہ کے لئے کہ اس نے اس کی زندگی میں اور اس کی سوچ میں ایک عظیم الشان انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔تو بعض دفعہ بے برکتی کے نتیجہ میں بھی نیتوں کے فساد کا پتہ چلتا ہے۔جب عمومی بے برکتی کہیں نظر آئے گی تو کوئی نہ کوئی رخنہ آپ کو دیکھنا پڑے گا، ضرور کہیں نہ کہیں کوئی رخنہ ملے گا۔اس لئے پیشتر اس کے کہ زیادہ تفصیل کے ساتھ چھان بین کی جائے۔تمام خدمت کرنے والے واقفین سے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے کہ اپنے ہنر کے باوجود آپ نے اپنی زندگی جماعت کے سامنے پیش کی تو اس نیکی ، اس قربانی سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں ورنہ اگر اس کے باوجود آپ نے دیانت داری سے کام نہ لیا اور یہ سمجھتے ہوئے کہ ہماری محنت ہے اس لئے اس میں سے ہم جتنا چاہیں لیں ہمارا حق بنتا ہے۔دوسرے ڈاکٹر لکھ پتی ہیں تو ہم کیوں غربت میں رہیں۔اس نیت سے اگر اپنے دل کو طفل تسلی دیتے ہوئے کچھ روپیہ کا نین شروع کیا تو ساری برکتیں آپ کی زندگی سے اٹھ جائیں گی۔وقف کا ایک کوڑی کا ثواب بھی نہیں ملے گا۔بلکہ الٹا خدا کی پکڑ کے نیچے آجائیں گے۔ایسے ڈاکٹر جو فیسوں کے معاملہ میں بد دیانتی کر رہے ہوں۔آدھی جیب میں ڈال لی اور آدھی حساب میں لکھی یا ادویات کے معاملہ میں بددیانتیاں کر رہے ہوں یا اخراجات لکھنے کے معاملہ میں بد دیانتیاں کر رہے ہوں۔کئی قسم کے امکانات، احتمالات ہیں جن کے ذریعہ ڈاکٹر بددیانتی کرسکتا ہے۔ان کو میں کہتا ہوں کہ آپ کا علاج صرف یہ ہے کہ وقف چھوڑ کر باہر چلے جائیں کیونکہ جب خدا نے آپ کو پاکیزہ رزق کمانے کی توفیق بخشی ہوئی ہے تو اسے حرام بنا کر کھانے کا فائدہ کیا ہے؟ نہایت ہی بیوقوفوں والی بات ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے تقسیم ملک سے پہلے ایک دفعہ قادیان میں ہماری ایک بڑی باجی