خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد۵ 266 خطبه جمعه ۴ راپریل ۱۹۸۶ء پورے کریں تب۔اگر پیش تو کر دیں لیکن تقاضے پورے نہ کریں تو پھر اسی حد تک یہ گری ہوئی بات بن جاتی ہے۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے سرسری، مجھے بعض خطرات دکھائی دینے لگے ہیں۔بعض دفعہ آڈٹ کی رپورٹ نہ بھی پہنچ رہی ہوں، عمومی بے برکتی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ خرابی ضرور موجود ہے۔اور یہ ہسپتالوں میں عمومی بے برکتی کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ہر جگہ جماعت کے ہسپتالوں میں یہ رجحان میں دیکھ رہا ہوں کہ جہاں پہلے غیر معمولی برکت تھی ، ایک خوشی اور بشاشت کا ماحول تھا ، سارے لوگ ارد گرد خوش تھے، تعریفوں کے خطوط آتے تھے اور شفا بہت تھی ان کے ہاتھوں میں۔اس کے برعکس صورت پیدا ہو گئی ہے، اب شکایتیں آنی شروع ہوگئی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آڈیٹر خواہ پکڑ سکے یا نہ پکڑ سکے جب عموماً خلق خدا ناراض ہونی شروع ہو جائے ، خلق خدا میں بے چینی پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب ہے ضرور کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے اور کام کرنے والے کی نیتیں جب بگڑتی ہیں تو پھر بے برکتی ضرور پیدا ہوتی ہے۔وہ آپ نے واقعہ سنا ہی ہوگا کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ شکار میں بھٹک گیا اور ایک صحرا میں نخلستان ہوتے ہیں یا باغ تھا چھوٹا سا وہاں پہنچ گیا۔شدید گرمی تھی وہاں ایک مالی کی بیٹی دیکھ بھال کر رہی تھی چیزوں کی۔اس نے اس سے کہا کہ مجھے شدید پیاس لگی ہے۔اس نے کہا تشریف رکھیں میں ابھی آپ کے لئے رس نکالتی ہوں۔چنانچہ کچھ پھل اس نے توڑے اور اس کے سامنے ان کا رس نکال کر اس کو پیش کیا۔تین یا چار پھلوں میں وہ گلاس بھر گیا۔جب بادشاہ نے وہ گلاس پی لیا تو اسی دوران اس نے حساب بھی کرنا شروع کیا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ یہ باغ ہے اتنا بڑا اور اس میں فی درخت تقریباً اتنے پھل ہیں اور تین چار پھلوں کے اندرہی ایک گلاس جوس سے بھر گیا ہے۔اگر اس کی قیمت اتنی ہو تو اس باغ کی تو اتنی قیمت بنتی ہے۔اور حکومت تو اس سے بہت ہی تھوڑ اٹیکس لے رہی ہے، کم سے کم دس گنا ٹیکس ایسے باغوں کا ہونا چاہئے۔جب وہ یہ حساب کر رہا تھا اور لڑکی اس کے لئے بے چاری پھل توڑ کر جوس بنا بنا کر پیش کر رہی تھی۔بادشاہ نے کہا بیٹی ! بہت اچھا جوس ہے۔مجھے ایک گلاس اور بنا دو۔اس نے دوسرا گلاس بنانا شروع کیا تو پندرہ ہیں پھل لگ گئے تب جا کر مشکل سے وہ گلاس بھرا۔بادشاہ نے بہت تعجب سے پوچھا کہ بیٹی ! یہ کیا قصہ ہے۔ابھی میں نے دیکھا تھا کہ تین