خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد۵ 265 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء ہیں۔اس لئے تقویٰ کی بصیرت کو تیز کریں اور اسی کی اپنا نگران بنا ئیں۔اگر آپ اس طرح کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے اموال میں بھی برکت پڑے گی اور جماعت کے اموال میں بھی ہر لحاظ سے برکت پڑے گی۔اگر ایک آنہ آپ خرچ کریں گے تو تقویٰ کے ساتھ خرچ کیا جانے والا آنہ ایک آنے کی قیمت نہیں دیتا وہ بعض دفعہ لکھوکھہا روپے کی قیمت دے دیتا ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اللہ پر ایمان لانے والے ہی سمجھ سکتے ہیں، دنیا دار کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آسکتی اور پھر بے شمار تقویٰ کے نتائج دور رس ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں جو آئندہ نسلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔اس لئے اس بارے میں جتنی بھی تاکید کی جائے کم ہے کہ خرچ کرنے والے تقویٰ کے معیار پر قائم ہوں اور اگر کسی کی آنکھ کے سامنے ان کے نقائص نہیں بھی آتے تب بھی خدا کا خوف اختیار کریں کیونکہ دنیا کے اموال کھانا بھی ایک بددیانتی ہے اور مکروہ چیز ہے لیکن وہ مال جو دینے والوں نے پتہ نہیں کس کس پاکیزہ نیت کے ساتھ ، کس پیار کے ساتھ کس محبت کے ساتھ کیا کیا قربانیاں کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش کیا۔اس مال پر منہ مارنا تو نہایت ہی گندی حرکت ہے۔عام معیار سے بہت زیادہ گری ہوئی حرکت ہے۔واقفین کی ایک اور بھی قسم ہے ہمارے ہاں جو کماتی بھی ہے جماعت کے لئے اور خرچ بھی کرتی ہے اور میری مراد ڈاکٹر سے ہے۔افریقہ کے مختلف ممالک میں ہمارے ایسے واقفین ڈاکٹر کام کر رہے ہیں اور بوہ میں بھی ہسپتال میں ایسے واقفین ڈاکٹر کام کر رہے ہیں کہ اگر وہ دنیا میں ویسے کمائی کے لئے نکلتے تو ہزار ہا اور بعض صورتوں میں لکھوکھا بھی کماسکتے تھے کیونکہ سرجن وغیرہ کی بہت بڑی قیمت ہوتی ہے۔آج کل تو امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں ایسے ماہر سرجن ہیں جن کی سالانہ آمد لکھوکھہا ڈالرز یا لکھوکھہا پاؤنڈ ز تک پہنچتی ہے اور عملاً یوں لگتا ہے جیسے سر جن سونے کی کان تک پہنچ گیا ہے۔دوسرے ڈاکٹروں کی بھی بعض ملکوں میں بہت قیمت ہے۔پاکستان میں بھی آج کل ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے علاج بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔اتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیماری سے مرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ پیسے دے کر مرے ڈاکٹر کو آدمی۔واقعی نا قابل برداشت ہے۔ایسی صورت میں ڈاکٹروں کا وقف کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے ہنر کو کمائی کا ذریعہ بنا کر پیش کر دینا ایک بہت عظیم الشان خدمت ہے، بہت اونچا مقام ہے یہ تقویٰ کا۔لیکن اس کے تقاضے