خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد۵ 262 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء مختلف کارکن جو خدا کی راہ میں آنے والے اموال کو خرچ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ان میں واقف زندگی بھی ہیں اور غیر واقف زندگی بھی ہیں۔پاکستان میں کام کرنے والے بھی ہیں اور باہر کے ملکوں میں بھی۔ایسے ممالک میں بھی ہیں جو خدا کے فضل سے بہت خوش حال ہیں اور کم سے کم معیار پر بھی اگر وہاں واقفین رہیں تب بھی ان کی حالت پاکستان میں بسنے والے واقفین کے مقابل پر اعلیٰ سے اعلیٰ معیار سے بھی اونچی ہے اور ایسے ممالک میں بھی ہیں جہاں اتنی غربت ہے ، اتنا معیار گرا ہوا ہے کہ بعض دفعہ ایک ہفتہ پہلے جب ہم ان کے وظائف میں اضافہ کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے بعد یہ اطلاع آتی ہے کہ اب اس مال کی قیمت یہاں آدھی رہ گئی ہے اور امر واقعہ ایسا ہو چکا ہے کہ چند دن کے اندر اندر جب وظائف میں اضافہ کیا گیا تو وہاں سے اطلاع ملی کہ اب تو یہاں روپے کی قیمت 1/3 رہ گئی ہے۔بہر حال مختلف حالات میں واقفین زندگی ہوں یا غیر واقفین زندگی خدا کی راہ میں اس قربانی کی توفیق بھی پارہے ہیں اور کچھ بے احتیاطیاں بھی کر رہے ہیں۔جو بے احتیاطیاں کرنے والے ہیں ان کو میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بے احتیاطیاں رفتہ رفتہ بددیانتیوں میں بدل جایا کرتی ہیں۔اس لئے اگر آپ بے احتیاطی سے بچیں گے اور شروع میں ہی تقویٰ کے معیار کو بڑھا کر سلسلے کے اموال خرچ کریں گے تو اس کا دہرا فائدہ پہنچے گا۔اول یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی نظر میں زیادہ مقبول ٹھہریں گے۔آپ کے ذاتی اموال میں بہت برکت ہوگی۔آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔آپ کی خوشیوں میں برکت بخشے گا ، آپ کے ایمان اور خلوص میں برکت بخشے گا اور دوسرا یہ کہ جماعت احمدیہ کے مالی قربانی کے معیار کو آپ اونچا کرنے والے ہوں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کے تقویٰ کا پیسہ دینے والے کے تقویٰ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔جہاں خرچ کرنے والوں کا تقویٰ اونچا ہو ، وہاں خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کا تقویٰ بھی خود بخود اونچا ہوتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ اکثر احمدیت سے باہر چندے مانگنے والوں کی یہی مصیبت ہے۔بے شمار روپیہ پڑا ہوا ہے اور بے شمار ایسے دل بھی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں مگر بد بختی ہے بعض قوموں کی کہ وہاں تقویٰ کے ساتھ خرچ کرنے والے نہیں ملتے۔اس لئے دلوں میں گانٹھیں پڑ گئی ہیں۔دینے والا ہاتھ کھلتا نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے لمبے تجربہ