خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 253

خطبات طاہر جلد۵ 253 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء ضروریات پر خرچ کرنے پر تیار رہتے تھے۔گو چند تھے گنتی کے لیکن اس معاملہ میں نمایاں حیثیت رکھنے والے لوگ تھے۔اس کے فوائد بھی بہت ہوئے۔قادیان کی اور ہندوستان کی جماعتوں کی ضرورتیں بڑی دیر تک ان قربانی کرنے والوں کے ذریعہ پوری ہوتی رہیں۔لیکن اللہ تعالی ایک الہی جماعت تیار کرنا چاہتا ہے قربانی کرنے والوں کی۔ایک یا دو یا چند آدمیوں کی قربانی سے جماعت کی قربانی کا فرض پورا نہیں ہوتا اور قربانی کا یہ مفہوم کہ ضرورت پوری ہو جائے یہ تو محض دنیاوی مفہوم ہے۔دین میں قربانی پیش کرنے کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی اہم ضرورت پوری ہو بلکہ ایک لازمی اثر اس کا یہ ہے کہ جو شخص قربانی کرنے والا ہے اس کا دل پاک اور صاف ہو۔اس کا مرتبہ خدا کے نزدیک بلند ہو اور اس کے اندار ایک پاکیزگی پیدا ہو، اس کی روح میں ایک جلا آ جائے اسکے نتیجہ میں۔چنانچہ اگر جماعت پوری کی پوری قربانی میں شامل نہ ہو یا اپنے معیار کو بلند نہ کر رہی ہو تو چند آدمیوں کی قربانی چاہے آسمان سے باتیں کر رہی ہو عمومی طور پر جماعت نقصان میں رہے گی۔چنانچہ ان کی اس قربانی کا ایک نقصان عموماً یہ دیکھا گیا کہ ہندوستان کی جماعت کے بہت سارے دوستوں نے یہ سمجھ لیا کہ ضرورتیں تو فلاں صاحب پوری کر رہے ہیں فلاں سیٹھ صاحب کو خدا تعالیٰ توفیق دے رہا ہے، اب ٹھیک ہے ضرورت پوری ہو گئی اب ہمیں کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ اپنے بچوں کو تکلیف میں مبتلا کرنے کی۔دوسری طرف کچھ شریکے ہوتے ہیں کچھ اور رشک کے مادے یا حسد کے مواجہات ہوتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان برادریوں میں سے جن میں بڑی قربانی کرنے والے آئے بہت سے لوگ عام قربانی کے معیار سے بھی گر گئے۔انہوں نے ان قربانی کرنے والے کی نیکی کا مقابلہ اس طرح شروع کیا کہ اس کے مال تو گندے مال ہیں۔یہ جماعت بھی عجیب جماعت ہے پیسے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، یہ نہیں دیکھتی کہ اس شخص کے کتنے نیک اعمال ہیں اس نے پیسہ کسی طریق سے حاصل کیا تھا۔کتنی ٹیکس کی چوری کی تھی کتنی فلاں چوری کی تھی اور کتنی فلاں چوری کی تھی؟ اب جماعت میں نہ اس بات کی استطاعت ہے اور نہ جماعتی روایات کا یہ تقاضا ہے کہ ہر چندہ دینے والے کی نفسی کمزوریوں کی جستجو کرے تجسس کر کے معلوم کرے۔جب نظام کے سامنے باتیں آتی ہیں تو نظام ضرور پکڑتا ہے لیکن مالی کمزوریوں میں خصوصاً وہ جو دنیا کے اموال کے روز مرہ کے