خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد۵ 245 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء نہیں ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر کوئی قرآن کریم کو سمجھ نہیں سکتا تھا۔جس کے دل پر الہاما نازل ہورہا تھا قرآن کا اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا۔ان دو پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں آج وصیت سے متعلق چند باتیں احباب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ دوراہنما اصول ہیں جن کے تابع ہمیں اپنے انتظامی معاملات کو بھی کھنگالنا ہوگا جو مال سے تعلق رکھتے ہیں اور دینے والوں کو اپنی انفرادی قربانی کو بھی اپنی انہی دوکسوٹیوں کے او پر پورا اترتے ہوئے دیکھنے کی تمنا کرنی چاہئے۔یہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی نظام کچھ پرانا ہونے لگتا ہے تو اس میں قانونی ایچ پیچ اور الجھنوں کا اضافہ ہونے لگتا ہے۔قانون تو اس لئے بنایا جاتا ہے کہ کسی مقصد کی روح کی حفاظت کی جائے لیکن جب زیادہ قانون بننے شروع ہو جائیں تو بعض دفعہ چھلکا ہی چھلکا رہ جاتا ہے اندر سے گودا غائب ہونے لگتا ہے۔بہت موٹے چھلکوں والے پھل بعض دفعہ اتنے موٹے چھلکوں والے ہو جاتے ہیں کہ اندر نام کا گودا باقی رہ جاتا ہے۔تو تنظیموں کو وقتا فوقتا اس بات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کہ قانون روح کی حفاظت کر بھی رہا ہے یا نہیں یا خودروح کو مارنے کا موجب بن رہا ہے۔وصیت کے معاملہ میں بھی کچھ خرابیاں زائد قوانین بنانے کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں۔مثلاً عورتوں کی طرف سے یہ شکوہ پیدا ہوا کہ صاحب جائیداد کے لئے وصیت آسان ہے وہ چاہے تو جائیداد کی 1/10 کی وصیت کر کے اس نظام میں شامل ہوسکتا ہے۔مگر اکثر عورتیں صاحب جائیداد نہیں ہوتیں اور آمد بھی ان کی براہ راست نہیں ہوتی بلکہ خاوند کی آمد ہوتی ہے۔تو وہ بیچاریاں جو ویسے نیکی اور تقویٰ کے معیار میں اعلیٰ درجہ پر یا صف اول میں ہیں محض اس لئے کہ جائیداد نہیں ہے وہ کیوں اس نیکی عظیم الشان قربانی سے محروم کی جاتی ہیں؟ اس کے کئی پہلو سے جواب دیئے جاسکتے تھے لیکن ان کی مشکل حل کرنے کے لئے ایک یہ قانون بنا دیا گیا کہ حق مہر بھی عورت کی جائیداد متصور ہوگا۔جو شخص کسی عورت کے لئے حق مہر مقرر کرتا ہے اس کی بیوی کو گو یا جائیدا دل گئی اور وہ چاہے تو اس کے 1/10 کی وصیت کر سکتی ہے۔قانون تو اس لئے بنایا گیا تھا کہ جو علی مالی قربانی کی روح رکھنے والے لوگ ہیں وہ محروم نہ رہیں۔مگر اس قانون کے چور دروازے سے وہ لوگ داخل ہونے لگ گئے جو اعلیٰ قربانی کی روح نہیں رکھتے تھے۔کسی خاوند نے فرضی ایک تمہیں روپے کسی کا مہر رکھا ہوا ہے اور ویسے