خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد۵ 246 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء بہت صاحب حیثیت ہے۔بعض دفعہ پرانے زمانوں میں دس، دس روپے مہر بھی رکھے گئے اور مہر رکھتے وقت بعض دفعہ خاوند کی حیثیت اور تھی اور بعد میں جب عورت نے وصیت کی اس وقت خاوند کی حیثیت اور ہو چکی تھی۔بعض دفعہ اچھی حیثیت کے باوجود رسماً اور رواج یا ویسے ہی عورتوں کی حق تلفی کرتے ہوئے پورا حق مہر نہیں رکھا گیا۔تو قانون جو بن گیا کہ حق مہر جائیداد متصور ہوگا تو کثرت سے ایسی وصیتیں آنی شروع ہو گئیں جن میں وصیت کی روح موجود نہیں تھی قانون کا تقاضا پورا ہورہا تھا۔پھر اسی طرح اور بھی بہت سے ایسے معاملات سامنے آنے لگے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ قانون کے لفظی پیمانے تو بھرے جا رہے ہیں مگر ان میں روح وصیت موجود نہیں ہے۔ایک والدین ہیں مثلاً وہ ریٹائر ہو گئے۔اگر بچوں کو اعلی تعلیم دی یا ریٹائر ڈ ہو گئے یا پنشن کمپیوٹ کرالی اور اس کے بعد ان کے پاس براہ راست کوئی آمد نہ رہی ، سب کچھ اپنے بچوں کو دے دیا اور اس کے بعد وصیت کر دی اور وصیت میں ہیں، پچھپیں چالیس روپے جو ان کو سمجھا کہ ہم اس کو تحفہ کے طور پر شمار کر سکتے ہیں وہ پیش کر دیا اور آنکھیں بند کر کے نظام وصیت نے وہ وصیتیں قبول کر لیں۔کیونکہ یہ اصول تھا کہ جس کے پاس جو ہے اس کے مطابق وصیت کرے گا، اس کے پاس اتنا ہی تھا اس لئے انہوں نے اس وصیت کو قبول کر لیا۔حالانکہ بچے ان کے بہت خوشحال۔بعض ایسی صورتیں بھی میرے سامنے آئیں کہ لکھ پتی تھے لیکن والدین کے حساب جب دیکھے گئے تو ان میں سے کسی ایک فوت شدہ کا تو پتہ چلا کہ سال ہا سال سے ایک پیسہ بھی ادا نہیں ہوا۔اس لئے کہ ہم بچوں کے پاس رہتے ہیں بس وہی ہمارا گزارہ تھا اور ہیں موصی۔تو قانون کا تقاضا تو بظاہر پورا کر لیا لیکن جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے یہ تحریک عطا فرمائی تھی کہ وہ لوگ جو نفس کی قربانی میں پورے اترتے ہیں مال کی قربانی میں بھی اگر وہ نمایاں صورت اختیار کریں تو ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے۔نمازی ہوں دین میں ویسے اچھے ہوں ، ظاہری طور پر شریعت کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں وہ بہر حال خدا کے نزدیک مقبول ہیں لیکن اگر مال کی قربانی میں بھی عام لوگوں سے بڑھ کر قربانی کرنے والے ہوں تو پھر وہ موصی بننے کے مستحق ہوں گے۔تو یہ جو شکلیں ہیں یہ تو مالی لحاظ سے قربانی کے اعلیٰ معیار پر شمار کی ہی نہیں جاسکتی۔پھر جب مزید چھان بین کی گئی بعض معاملات میں تو ایسی صورتیں بھی سامنے آئیں کہ