خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 19
خطبات طاہر جلد۵ 19 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء رکھ دیا اور کہا یہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ 10 (دس) پھر ایک اور صفر اٹھایا اور اس کے آگے دائیں طرف رکھ دیا پھر خدا نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے کہا جی 100۔غرضیکہ وہ ہند سے بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ گنتی ختم ہوگئی اور پھر یہ کشفی حالت بھی جاتی رہی۔تو سبق یہ دینا مقصود تھا کہ جو کچھ بھی ہے خدا کی ذات سے طاقت حاصل کر کے ہے، اس کے منشاء اور ارادے کے مطابق ہے اور اسی سے صفر قوت پکڑتے ہیں اور تعدد اختیار کرتے ہیں اور اگر اس 1 کے ساتھ ان صفروں کا رشتہ نہ باندھا جائے اور صحیح سمت میں نہ باندھا جائے تو ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔تو صفت قدیر بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ تخلیق کا خدا تعالیٰ کی قدرت کی شان کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے یعنی قدر کے یہ معنی کہ متناسب اور متوازن کرنا یہاں تک کہ دونوں پہلوسوفی صدی برابر ہوجائیں۔یہ صفت خدا کی ہر تخلیق میں آپ جلوہ گر دیکھیں گے اور احمدیوں کے لئے بھی اس میں گہرے سبق ہیں۔آپ کو خدا تعالیٰ تخلیق کے نئے نکتے سمجھا رہا ہے، نئے عرفان عطا فرمارہا ہے۔اپنی ذات میں پہلے توازن پیدا کریں اگر آپ خدا کے قدیر بندے بنا چاہتے ہیں۔اپنی ذات کومتوازن بنائیں کیونکہ متوازن ہوئے بغیر نشو و نما نہیں ہوسکتی۔نشو ونما تخلیق کا ایک دوسرا پہلو ہے ابتداء جب تخلیق کی ہو جاتی ہے تو پھر اعادہ ہوتا ہے تخلیق کا اور تخلیق کے ہر اعادہ کے وقت خدا کی قدرت کا یہ پہلو جلوہ گر ہو جاتا ہے کہ ایک توازن کی حالت قائم کی جاتی ہے جس سے پھرنئی نشو ونما پیدا ہوتی ہے۔مثلاً آپ گندم کا کھیت اگانے کی کوشش کریں، دانوں کا چھٹا دیں گے تو روئیدگی تو پیدا ہو جائے گی لیکن اگر اس کھیت کے اندر توازن نہیں ہے تو یا تو آپ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا یا آپ کی بیشتر محنت ضائع چلی جائے گی یا کم سے کم جو حد امکان تک آپ فائدہ اٹھا سکتے تھے اپنی محنت کا وہ نہیں اٹھا سکیں گے۔مثلاً اگر زمین متوازن نہیں ہے تو اس سے زمیندار جانتا ہے کہ کتنا بڑا اس کی فصل کے پھل پر اثر پڑتا ہے۔اگر پانی متوازن نہیں دیا گیا یعنی خشکی اور تری کا جو توازن ہے وہ صحیح قائم نہیں رکھا گیا تو اس سے بھی بعض دفعہ ساری محنت بے کار چلی جاتی ہے۔کسی وقت میں زیادہ پانی دے دیں اور کسی وقت میں خشکی زیادہ دے دیں تب بھی نقصان خشکی نہ پیدا کریں تب بھی نقصان تری پیدا نہ کریں تب بھی نقصان۔توازن ہے جس کے نتیجہ میں کھیت بڑھتے ہیں۔کھاد بڑی اچھی چیز ہے۔طاقتور چیز ہے لیکن کھاد میں جہاں توازن