خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد۵ 243 خطبہ جمعہ ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء آخرت میں بھی تمہارے حصے میں کچھ بھی لکھا نہیں جائے گا اور اس وقت تمہارا یہ اصرار کہ میں نے تو خدا کی راہ میں اتنا سونا خرچ کیا تھا، اتنے خزانے لٹائے تھے اس اعتراض کی ، اس وہم کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہوگی۔اس وقت خدا کے سامنے اپنی مالی قربانیاں پیش کرنا کہ فلاں گناہ کے بدلے یہ قربانیاں قبول فرما اور مجھے بخش دو۔یہ خیال، یہ وہم رد کر دیا جائے گا۔ایک تو اس کا یہ معنی ہے۔دوسرا اس کا اور معنی بھی ہے کہ مرنے کے بعد جب انسان کا دارالعمل سے تعلق کٹ جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں اس کی طرف سے پھر وہ قربانیاں پیش نہیں کی جاسکتیں جو اس نے خود اپنی زندگی میں نہیں پیش کیں اور اگر اس کی اولاد اس کے مرنے کے بعد کروڑ ہا روپیہ بھی خرچ کرے تو اکثر صورتوں میں وہ اس کو نہیں پہنچے گا۔یہ مضمون کچھ مزید وضاحت چاہتا ہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ ماں باپ کے لئے اپنے مرحوم پیاروں کے لئے ہم خرچ کرتے ہیں، چندے بھی دیتے ہیں، زکوۃ بھی دیتے ہیں۔تو وہ پھر کیوں مقبول ہوگا جب دارالعمل سے اس کا تعلق کٹ گیا ؟ اس مسئلہ کو خود حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھول دیا ہے۔پس اس استثناء کو بہر حال پیش نظر رکھا جائے گا جو استثناء اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا ہے اور وہ استثناء یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! میری والدہ جب زندہ تھی تو یہ یہ نیک خرچ کرنے کی تمنا رکھتی تھی ، نذر باندھے ہوئے تھی اور بہت اس کی خواہش تھی کہ میں خدا کی راہ میں اس اس طرح خرچ کروں لیکن پیشتر اس کے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہوتی خدا نے اسے یہ خدا واپس بلا لیا۔اب کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس خواہش کو اس کے مرنے کے بعد پورا کر دوں اور اس کے نام پر صدقات دیتا رہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا درست ہے تم ایسا کر سکتے ہو۔(مسلم کتاب النذ رحدیث نمبر:۳۰۹۲) اسی طرح اور بھی مختلف شکلوں میں یہ روایت آتی ہے جس سے قطعی طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ نیکی جو انسان زندگی میں کرتا رہا ہو خصوصاً مالی قربانی اور اس کی حسرت پوری نہ ہوئی ہو، وہ چاہتا ہو کہ اور دے لیکن توفیق نہ پانے کی وجہ سے آگے اور مزید دے نہ سکا ہو۔اس کی اولا د جب اس کے نام پر اس کی خاطر خدا تعالیٰ کے حضور کچھ پیش کرے گی تو اللہ تعالیٰ اسے پہنچا دے گا اور یہ وہ