خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد۵ 235 خطبہ جمعہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء پس جو خدمتوں کے مقام محمود نہیں پاتا اسے دوسرے مقام محمود کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ہر مقام محمود کے ساتھ ایک تعلق رکھنے والی خدمت کا بھی مقام محمود ہے۔خدا کی راہ میں چندہ دینے والے لاکھوں کروڑوں ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر چندہ اگر مقدار میں برابر ہو تو مرتبہ میں بھی برابر ہو۔یہاں خدمت کا مقام محمود ہے جو فیصلہ کرتا ہے فرق کر کے دکھاتا ہے۔تو فرمایا ” خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔اس فقرہ سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے سچے اور پاکیزہ دل کا کلام ہے۔جھوٹے آدمی کو ایسی بات نصیب ہو ہی نہیں سکتی ، اس کا تصور ان باتوں کے قدموں کو بھی نہیں چھو سکتا کبھی۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔یعنی اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں۔) اور ایسے ہی شخصوں کے لهُ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرہ:۲۳) ہے۔اور اس کے بعد ان کو کیا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷)۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں، ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں ، ان کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں ، ان کے پاؤں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتے ہیں۔اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار رہو۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالی اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔وو ( ملفوظات جلد دوم صفحه : ۲۸۰-۲۸۱) دوزمانے متقی پر آتے ہیں ایک ابتلاء کا زمانہ اور دوسرا اصطفاء کا زمانہ۔ابتلاء کا زمانہ اس لئے آتا ہے تا کہ تمہیں اپنی قدرومنزلت اور قابلیت کا