خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد۵ 234 خطبہ جمعہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء المسلم حرام دمه وماله وعرضه ( مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر :۱۴۶۵۰ یک شخص کے لئے اس کی ہلاکت کے لئے یہ شر بہت کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی مسلمان کو تحقیر کی نظر سے دیکھے اور سب گناہوں سے بچا بھی ہوا ہو۔اگر ینقص بھی کسی میں ہو کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت اور تذلیل کی نظر سے دیکھتا ہے تو فرمایا اس کی ہلاکت کے لئے بس یہی کافی ہے۔کـل المسلم على المسلم حرام مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان پر حرام ہے یعنی بلا اجازت تصرف حرام ہے۔فرمایا دمه وماله وعرضہ اس کا خون بھی حرام ہے۔اس کا مال بھی حرام ہے اور اس کی عزت بھی حرام ہے۔اب جتنے بھی جھگڑے ہیں انسانی معاشرے میں اس خلاصہ سے باہر اس کو نکال ہی نہیں سکتے آپ۔تمام اختلافات کی جڑیں ان تین باتوں میں ہیں، دم میں ، مال میں اور عرض میں۔فرمایا یہ تین باتیں ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان پر میں حرام کر رہا ہوں اور اگر یہ حرام ہو جاتی ہیں تو پھر یہ سوسائٹی لازماً جنت بن کے رہے گی۔پھر مسلمان کے لئے جہنم کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔پس اگر یہ تصورات موجود ہیں، اگر یہ تکلیفیں دکھائی دے رہی ہیں تو لازما تقویٰ کی ان جڑوں میں کہیں کوئی نقص ہے اور وہ تقویٰ نہیں ہے آپ کے اندر جو محمد مصطفی ﷺ کے مبارک مقدس وجود سے پھوٹتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا ، چوری، تلف حقوق ، ریا ، عجب ، حقارت ، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔لوگوں سے مروت ، خوش خلقی، ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے“ یہ بڑا عظیم الشان فقرہ ہے، بہت ہی پیارا خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔خدمت میں تو انسان بظاہر گرتا ہے اور نیچے ہو کر خدمت کرتا ہے اور مقام محمود وہ ہے جو سب سے اونچا مقام قرآن کریم وعدہ فرماتا ہے کہ خدا اپنے پیاروں کو عطا فرماتا ہے۔تو فرمایا خدمتوں کے بھی بعض مقام محمود ہیں کس سلیقہ سے خدمت کر رہے ہو، کس انداز سے خدمت کر رہے ہو، کس طرح نکھار کر تحسین کے ساتھ خدمت کرتے ہو اس سے تمہیں مقام محمود نصیب ہوگا۔