خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 18
خطبات طاہر جلد۵ 18 خدا اور یہ سب کچھ بھی ہے۔ان سب سوالوں کا جواب آگیا کہ: کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود جب پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۸۶ء اے خدا! تو تو کہتا ہے کہ تیرے سوا اور ہے ہی کچھ نہیں تو پھر یہ کیا ہنگامہ ہے! یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں غمزه و عشوہ و ادا کیا ہے؟ (دیوان غالب صفحه: ۲۵۱-۲۵۲) یہ کیا دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں یہ حسن کی جلوہ گریاں ، یہ ادائیں، یہ ناز یہ مظالم کا سلسلہ، یہ کے مختلف پہلو، یہ بدصورتیوں کے مختلف پہلو۔لیکن جب آپ خدا کی صفت قدیر پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا ایک گہرا تعلق توحید باری تعالیٰ سے بھی ہے اور قدرت کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے کہ خدا کے سواہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہو کر عدم اختیار کر جائے اگر خدا تعالیٰ یہ چاہے۔ایک دفعہ ہمارے ایک احمدی بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی جو بہت دعا گو تھے اور جن کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ بڑی جلدی پایہ قبولیت میں جگہ بھی دیتا تھا اور بہت جلد جواب بھی دیتا تھا۔ان کے متعلق یہ واقعہ آتا ہے کہ وہ ایک دفعہ اسی الجھن میں مبتلا ہو گئے۔اے خدا! جب تیرے سوا ہے ہی کچھ نہیں تو یہ لاکھوں کروڑوں اربوں ان گنت شکلیں ہم کیا دیکھ رہے ہیں، میں کیا ہوں ؟ تو کیا ہے؟ ما وتو کے جھگڑے کیا ہیں، یہ زمین یہ آسمان ، یہ بیچ میں چیزیں پیدا ہونے والی ان گنت مخلوقات کی قسمیں۔مجھے تو اس کی سمجھ نہیں آتی۔پھر تیری وحدت کہاں گئی۔اسی سوچ میں مبتلا تھے کہ اچانک کشفی حالت طاری ہوئی اور کشفی حالت میں انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک بچے کی طرح ایک کلاس روم میں بیٹھے سبق حاصل کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایک استاد بن کر بلیک بورڈ، تختہ سیاہ پر چاک سے کچھ لکھ رہا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے یعنی تمثل کے طور پر ایک استاد کی شکل اختیار کر کے بلیک بورڈر پر ایک لکھا اور ان سے جو شاگرد بنے ہوئے بیٹھے تھے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا 1 اس پر خدا نے ایک طرف زیرو لکھا، صفر لکھا تو فرمایا یہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ جی صفر۔پھر اور صفر لکھے پھر اور صفر لکھے یہاں تک کہ بہت سے صفر لکھے۔پھر ایک صفر اٹھا کر اس 1 کے دائیں طرف