خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد۵ 233 خطبہ جمعہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء ہو جاؤ ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔اس سے مسلمانوں کے اندر جو نیکی کی روح آنحضور دیکھنا چاہتے ہیں اس کی اعلیٰ تعریف فرما دی۔اس فقرہ کو بھلا کر ایک عام انسان کو یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ ایک آدمی بیچ کر رہا ہے مجھے اچھا موقع ملا ہے میں خفیہ طور پر اس سے بڑھ کر بات کیوں نہ کرلوں ، کیوں نہ اس سودے کے اندر داخل ہو کر اسے اپنالوں ، اس میں کیا نقصان کی بات ہے۔وہ بھی سودا کر رہا ہے اس کی ملکیت نہیں، میں بھی سودا کر رہا ہوں میری ملکیت نہیں ہے۔ایک تیسرا شخص ہے اس کا فائدہ ہی ہوگا ، اس کو زیادہ پیسے مل جائیں گے۔انسانی نفس عام دنیا کے معیار تقویٰ کے مطابق اس کو کوئی بھی ایسی بات نہیں دکھاتا جو معیوب ہو بلکہ اس کو بہتر اور حسین کر کے دکھاتا ہے کہ ہاں بڑی اچھی بات ہے ایسا کرلو۔لیکن بھائی بھائی میں جا کر سارا معاملہ کھول دیا ، ہر بات کی وضاحت فرما دی۔دو سگے بھائی جو ایک دوسرے سے پیار کرنے والے ہوں وہ ایک دوسرے سے اپنے سودے چھپایا تو نہیں کرتے۔وہ وہم بھی نہیں کر سکتے کہ ایک بھائی کوئی سودا کر رہا ہو اور دوسرا بھائی مخفی طور پر جاکے اس سے بڑھ کر بولی دے کر اس کے سودے کو اپنا لے۔جب بھائی بھائی کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو اتنی اخلاق سے گری ہوئی اور کمینی حرکت نظر آتی ہے کہ خاندان کے ماحول میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی علے نے جب اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے تو مراد یہ تھی کہ اخلاق کے جوگر میں تمہیں سکھا رہا ہوں وہ میرے دل کے تقویٰ سے وابستہ ہیں ، میرے دل کے تقویٰ سے مناسبت رکھتے ہیں۔دنیا کے بھلے آدمیوں کے ساتھ شاید تمہیں ان میں کوئی مناسبت نظر نہ آئے۔عام انسان کے معیار کے مطابق تم شاید یہ سمجھو کہ یہ زیادہ بلند اور بے وجہ کا معیار مقرر کیا گیا ہے لیکن یا درکھنا جو تعلیم میں تمہیں دیتا ہوں وہ اپنے دل کے تقویٰ کے لحاظ سے تعلیم دیتا ہوں۔اگر میرے جیسا بننا چاہتے ہو، اگر مجھ سے محبت کرتے ہو، اگر میری غلامی کا دعوی ہے تو پھر مجھ سے تقویٰ سیکھو، غیروں سے نہ تقویٰ سیکھو۔وہ مذاہب جو ماضی کے قصے بن چکے ہیں، وہ انبیاء جو پرانے زمانوں میں کھوئے گئے ان کی تقویٰ کی تعلیم ان کے دلوں سے تعلق رکھتی تھی۔اب آئندہ آنے والے زمانے میں تقویٰ کی تعلیم محمد مصطفی عملے کے دل سے تعلق رکھنے والی ہوگی اور ان دونوں میں یقیناً ایک نمایاں فرق ہے۔پھر فرمایا حسب امراء من الشر ان يحقر اخاه المسلم ، كل المسلم على