خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 221
خطبات طاہر جلد۵ 221 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء کے قربانی کرنے والوں کو اپنے پسماندگان کے متعلق کوئی فکر نہ رہے اور اتنی واضح ، اتنی کھلی کھلی یہ حقیقت ہر ایک کے پیش نظر رہے کہ ہم بطور جماعت کے زندہ ہیں اور بطور جماعت کے ہمارے سب دکھ اجتماعی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر یہ یقین پیدا ہو جائے کسی جماعت میں تو اس کی قربانی کا معیار عام دنیا کی جماعتوں سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔باہر تو پوچھتا ہی کوئی نہیں۔بڑے بڑے سیاسی لیڈر ہم نے دیکھے ہیں جو تحریکیں چلا کر ہزار ہا کو مروا دیتے ہیں اور اس کے بعد خود عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔کوئی پتہ نہیں کرتا کہ ان یتیموں کا کیا بنا ، ان بیوگان کا کیا بنا، ان کے بچوں کی اخلاقی نگرانی کرنے والا بھی کوئی تھا کہ نہیں ، ان کے سر پر چھت بھی تھی کہ نہیں ، دو وقت کا کھانا بھی میسر تھا کہ نہیں اور عوام بے چارے اپنی سادگی میں پھر ہر دفعہ ایسی قربانیاں پیش کرتے ہیں لیکن جس جماعت میں قربانی کا معیار خدا کے فضل اور اس کے رحم کے نتیجے میں اس وجہ سے بلند ہو کہ وہ خدا کی خاطر قربانی کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی یقین کامل ہو کہ ہمارے بعد ہماری اولاد کی ساری جماعت نگران رہے گی بلکہ پہلے سے بڑھ کر ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔تو ایسی جماعت کی قربانی کا معیار آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔اس لئے اگر چہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ان تمام باتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔لیکن بعض دوستوں کی طرف سے یہ اصرار ہوتا رہا ہے کہ شہدا کے لئے ایک مستقل فنڈ اکٹھا ہونا چاہئے۔پہلے تو میری طبیعت میں یہ تر دور ہا اس خیال سے کہ یہ تو ان کے حقوق ہیں اور جماعت کی جو بھی آمد ہے اس میں یہ اولین حق ان لوگوں کا شامل ہے۔اس لئے الگ تحریک کرنے سے کہیں یہ جذباتی تکلیف نہ ان کو پہنچے کہ ہمارا بوجھ جماعت اٹھا نہیں سکتی اس طرح ہمارے لئے جیسے صدقے کی تحریک کی جاتی ہے۔اس طرح الگ تحریک کی جارہی ہے۔اس لئے کافی دیر تر ددرہا اور دعا بھی کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی تو فیق عطا فرمائے۔لیکن اب مجھے پوری طرح اس بات پر شرح صدر ہو گیا ہے کہ چونکہ یہ ہرگز صدقے کی تحریک نہیں بلکہ جو شخص اس میں حصہ لے گاوہ اعزاز سمجھے گا اس بات کو کہ مجھے جتنی خدمت کرنی چاہئے تھی اتنی نہیں تو ایک بہت ہی معمولی خدمت کی توفیق مل رہی ہے اور اس لئے کہ بہت سے لوگوں کی طرف سے بے اختیار بار بارا ظہار ہو رہا ہے کہ ہم بے چین ہیں ہمیں موقع دیا جائے ہم کسی رنگ میں خدمت کرنا چاہتے ہیں اور چونکہ