خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 217

خطبات طاہر جلد ۵ 217 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء پر تو کل ہے اس کا اظہار اس چھوٹی عمر کے بچے نے کیا ہے۔محمد الیاس منیر کی ہمشیر لکھتی ہیں کہ: اس سے قبل میں نے آپ کو دو خط اپنے پیارے بھائی الیاس منیر واقف زندگی کی باعزت رہائی کے لئے لکھے تھے۔جن میں بہت پریشانی کا اظہار کیا مگر اب ہمیں آپ کا ۲۱ فروری کا خطبہ پہنچ گیا ہے جس کو میں ابھی دوبارہ پڑھ کر بیٹھی ہوں اور دل کو ڈھارس ہوئی ہے“۔ان کے والد مکرم محمد اسماعیل منیر واقف زندگی لکھتے ہیں: ہمیں خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمارے خاندان کو بھی ایک اہم قربانی پیش کرنے کے لئے چن لیا ہے اور اللہ تعالیٰ مزید فضل فرمائے اور پوری بشاشت سے اس کو پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو ہمارے رب کے ہاں بھی مقبول ہو اور ہم سب کا انجام بخیر ہو۔جب سے یہ خبر سنی ہے حضور اید کم اللہ کی تکلیف کا تصور کر کے ہمارے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ہم دعاؤں میں لگ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمارے امام کی ہر تکلیف کو دور فرمائے اور اسلام اور احمدیت کی شاندار فتوحات عطا فرمائے۔اس غرض کے لئے ہم ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔عزیزہ طاہرہ الیاس اور دونوں بچے طارق الیاس، خالد الیاس میری خوب مدد کر رہے ہیں اور ہم سب مل کر آنے والے احباب کی جسمانی اور روحانی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔اور اس اہم جماعتی دکھ کو دور کرنے کے لئے دن رات دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں“۔پھر ایک اور خط میں لکھتے ہیں: ” ہم اسیران راہ مولیٰ سے فیصلہ کے بعد ۱۷ فروری کو ملے تھے۔اس کے بعد بھی جو دوست مل کر آئے ہیں ان سب کی زبانی اسیران کے بلند حوصلوں کی خبریں ملی ہیں۔اور وہ حضرت اسماعیل علیہ الصلواۃ والسلام کی طرح